ملفوظات (جلد 7) — Page 111
ملفوظات حضرت مسیح موعود جلد ہفتم اپنے چہرے پر ظاہر فرماتے تھے۔ ذرا سے بادل کے نمودار ہونے پر آپ بے آرام سے ہو جاتے۔ کبھی باہر نکلتے اور کبھی اندر جاتے ۔ غرض اس وقت بھی نبی اللہ نے ہر کہ عارف تر است تر سال تر والے مقولہ کو عملی رنگ میں بالکل سچا کر کے دکھایا۔ زلزلہ کے شروع ہوتے ہی آپ بمعہ اہل بیت اور بال بچہ کے اللہ تعالیٰ کے حضور میں دعا کرنے میں شروع ہو گئے اور اپنے رب کے آگے سربسجود ہوئے۔ بہت دیر تک قیام، رکوع اور سجدہ میں سارا کنبہ کا کنبہ بمعہ خدام کے گرا رہا اور اللہ تعالیٰ کی بے نیازی سے لرزاں وترساں رہا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے تمام مکانات اور جانوں کو گرنے اور تلف ہونے سے محفوظ رکھا اور کوئی ایسا واقعہ پیش نہیں آیا جیسا کہ دوسرے شہروں سے تباہی اور ہلاکت کی خبریں آرہی ہیں بلکہ ایسے مکانات جن کے پردے صرف ایک ایک اینٹ کے تھے اور کچھ پھٹے ہوئے بھی تھے اور بعض اینٹیں اکھڑی ہوئی یو نہی پڑی تھیں ان میں سے ایک اینٹ بھی نہیں گری چونکہ ہر دس منٹ کے بعد بار بار زلزلہ کا احساس ہوتا تھا اور تمام روز کچھ کچھ زلزلہ محسوس ہوتا رہا۔ اس واسطے حضور اقدس نے برعایت اسباب مناسب سمجھا کہ سہ منزلہ مکان میں رہنے کے بجائے اپنے باغ والے مکان میں ایک دو روز کے واسطے رہائش اختیار کریں ۔ اگر چہ اس موقع پر کچھ خوف ہم سب کو دیکھنا پڑا ہے تاہم دراصل اس پاک مسیح کے قدموں کے طفیل کوئی امر ہمارے واسطے فائدہ سے خالی نہیں ۔ اوّل تو ۳ را پریل کی رؤیا اس سے پوری ہوئی جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دیکھی تھی ۔ اور کئی ایک کو سنائی تھی ۔ اے لے یہ رؤیا البدر کے اسی پرچہ میں صفحہ ۳ پر درج ہے جو یہ ہے۔ ۳ را پریل ۱۹۰۵ء رویا ” دیکھا کہ مرزا نظام الدین کے مکان پر مرزا سلطان احمد کھڑا ہے۔ اور سب لباس سرتا پا سیاہ ہے۔ ایسی گاڑھی سیاہی کہ دیکھی نہیں جاتی ۔ اسی وقت معلوم ہوا کہ یہ ایک فرشتہ ہے جو سلطان احمد کا لباس پہن کر کھڑا ہے ۔ اس وقت میں نے گھر میں مخاطب ہو کر کہا کہ یہ میرا بیٹا ہے۔ تب دوفر شتے اور ظاہر ہو گئے اور تین کرسیاں معلوم ہوئیں اور تینوں پر وہ تین فرشتے بیٹھ گئے اور بہت تیز قلم سے کچھ لکھنا شروع کیا جس کی تیز آواز سنائی دیتی تھی۔ ان کے اس طرز کے لکھنے میں ایک رعب تھا۔ میں پاس کھڑا ہوں ( کہ بیداری ہوگئی ۔ )