ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 110 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 110

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۱۰ جلد ہفتم طاعون کو بھی نار جہنم کہا ہے۔ پہلے بھی ایک الہام ہوا تھا یأْتِي عَلَى جَهَنَّمَ زَمَانٌ لَيْسَ فِيهَا أَحَدٌ - اس کے بعد آپ نے نماز ظہر جماعت کے ساتھ معمول کے موافق ادا کی اور آپ تشریف لے گئے ۔ لے ۳ را پریل ۱۹۰۵ء محبین سے تعلق خاطر سید حامد شاہ صاح سیالکوٹ کے تقدر مستقل بر عہدہ سپریٹنڈنٹ دفتر صاحب ضلع کی خبر حضرت کی خدمت میں سنائی گئی۔ آپ بہت خوش ہوئے اور فرمایا کہ شاہ صاحب ایک درویش مزاج آدمی ہیں اور خدا ایسے ہی لوگوں کو پسند کرتا ہے۔ مولوی عبدالکریم صاحب کی علالت طبع کا ذکر تھا حضرت نے ان کو مخاطب کر کے فرمایا کہ میں نے آپ کے واسطے اس قدر دعا کی ہے جس کی حد نہیں ۔ ہے ۴ را پریل ۱۹۰۵ء ایک زور آور زلزلہ کا نشان صبح 4 بجے یک دفعہ نہایت زور آور حملہ زلزلہ کا ہوا۔ تمام مکانات اور اشیاء ہلنے اور ڈولنے لگ پڑیں۔ لوگ حیران اور سراسیمہ ہو کر گھبرانے لگے۔ ایسے وقت میں خدا کے مسیح کا حال دیکھنے کے لائق تھا کیونکہ احادیث میں تو ہم پڑھا ہی کرتے تھے کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایسے آسمانی اور زمینی واقعات پر خشیت اللہ کا بڑا اثر (بقیہ حاشیہ الہامیہ اور انبیاء و اولیاء کے الہامات میں بہت ہیں کہ ایجاد کردہ قواعد زبان کے برخلاف کئی عبارتیں اور فقرات نازل ہوتے رہے ہیں ۔ “ ( البدر جلد نمبر ۱ مورخه ۶ را پریل ۱۹۰۵ ء صفحه ۶) الحکم جلد ۹ نمبر ۱۳ مورخه ۱۷ را پریل ۱۹۰۵ صفحه ۶ البدر جلد نمبر ۱ مورخه ۶ را پریل ۱۹۰۵ صفحه ۶