ملفوظات (جلد 7)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 105 of 430

ملفوظات (جلد 7) — Page 105

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۰۵ جلد لد هفتم رکھتی ہوگی جیسا کہ اللہ تعالیٰ مجھے مخاطب کر کے فرماتا ہے يَنْصُرُكَ اللَّهُ مِنْ عِنْدِهِ يَنْصُرُكَ رِجَالٌ نُوحِي إِلَيْهِمْ مِنَ السَّمَاءِ یعنی خدا تیری اپنے پاس سے مدد کرے گا۔ تیری وہ مدد کریں گے جن کے دلوں میں ہم آپ وحی کریں گے اور الہام کریں گے ۔ پس اس کے بعد میں ایسے لوگوں کو ایک مرے ہوئے کیڑے کی طرح بھی نہیں سمجھتا جن کے دلوں میں بدگمانیاں پیدا ہوتی ہیں۔ اور کیا وجہ کہ اٹھیں جبکہ میں ایسے خشک دل لوگوں کو چندہ کے لیے مجبور نہیں کرتا جن کا ایمان ہنوز نا تمام ہے۔ مجھے وہ لوگ چندہ دے سکتے ہیں جو اپنے سچے دل سے مجھے خلیفہ اللہ سمجھتے ہیں ۔ اور میرے تمام کاروبار خواہ ان کو سمجھیں یا نہ سمجھیں ان پر ایمان لاتے اور ان پر اعتراض کرنا موجب سلب ایمان سمجھتے ہیں۔ میں تاجر نہیں کہ کوئی حساب رکھوں۔ میں کسی کمیٹی کا خزانچی نہیں کہ کسی کو حساب دوں ۔ میں بلند آواز سے کہتا ہوں کہ ہر ایک شخص جو ایک ذرہ بھی میری نسبت اور میرے مصارف کی نسبت اعتراض دل میں رکھتا ہے اس پر حرام ہے کہ ایک کوڑی میری طرف بھیجے ۔ مجھے کسی کی پروا نہیں ۔ جبکہ خدا مجھے بکثرت کہتا ہے گویا ہر روز کہتا ہے کہ میں ہی بھیجتا ہوں جو آتا ہے اور کبھی میرے مصارف پر وہ اعتراض نہیں کرتا تو دوسرا کون ہے جو مجھ پر اعتراض کرے۔ ایسا اعتراض آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی تقسیم اموال غنیمت کے وقت کیا گیا تھا۔ سو میں آپ کو دوبارہ لکھتا ہوں کہ آئندہ سب کو کہہ دیں کہ تم کو اس خدا کی قسم ہے جس نے تمہیں پیدا کیا اور ایسا ہی ہر ایک جو اس خیال میں ان کا شریک ہے کہ ایک حبہ بھی میری طرف کسی سلسلہ کے لیے کبھی اپنی عمر تک ارسال نہ 66 کریں پھر دیکھیں کہ ہمارا کیا حرج ہوا ؟ اب قسم کے بعد میرے پاس نہیں کہ اور لکھوں ۔“ خاکسار مرزاغلام احمد کے نے اپنے حل مشکلات کا طریق ایک شخص نے اپنے مشکلات کے لیے عرض کیا۔ فرمایا۔ استغفار کثرت سے پڑھا کرو اور نمازوں میں یا حَی يَا قَيُّومُ اسْتَغِيْتُ بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ پڑھو۔ الحکم جلد ۹ نمبر ۱۱ مورخه ۳۱ مارچ ۱۹۰۵ء صفحه ۹۰۸