ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 87 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 87

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۸۷ میں رواج نہ پاتا جب وہ چھوٹ گئے تو ایسے ایسے عقائد شامل ہو گئے۔ شخص اعمالِ صالحہ کثرت سے بجالائیں ہیں جو ایمان کوقائم رہنا چاہتاہے وہ اعمال صالح میں ترقی کرے یہ روحانی امور ہیں اور اعمال کا اثر عقائد پر پڑتا ہے جن لوگوں نے بدکاری وغیرہ اختیار کی ہے ان کو دیکھو تو آخر معلوم ہوگا کہ ان کا خدا پر ایمان نہیں ہے۔ حدیث شریف میں اسی لیے ہے کہ چور جب چوری کرتا ہے تو وہ مومن نہیں ہوتا اور زانی جب زنا کرتا ہے تو وہ مومن نہیں ہوتا اس کے یہی معنے ہیں کہ اس کی بداعمالی نے اس کے سچے اور صحیح عقیدہ پر اثر ڈال کر اسے ضائع کر دیا ہے ہماری جماعت کو چاہیے کہ اعمالِ صالحہ کثرت سے بجالا وے اگر اس کی بھی یہی حالت رہی جیسے اوروں کی تو پھر امتیاز کیا ہوا۔ اور خدا تعالیٰ کو ان کی رعایت اور حفاظت کی کیا ضرورت ۔ خدا تعالیٰ اسی وقت رعایت کرے گا جب تقویٰ ، طہارت اور سچی اطاعت سے اسے خوش کرو گے۔ یاد رکھو کہ اس کا کسی سے کچھ رشتہ نہیں ہے محض لاف اور یاوہ گوئی سے کوئی بات نہیں بنا کرتی ۔ سچی اطاعت ایک موت ہے۔ جو نہیں بجالاتا وہ خدا تعالیٰ سے شطرنج بازی کرتا ہے کہ مطلب کے وقت تو خدا سے خوش ہوتا ہے اور جب مطلب نہ ہو تو ناراض ہو گیا مومن کا یہ دستور نہیں چاہیے۔ بھلا غور تو کرو کہ اگر خدا تعالیٰ ہر ایک میدان میں کامیابی دیتا ر ہے اور کوئی نا کامی کی صورت کبھی پیش نہ آوے تو کیا سب جہاں موحد نہیں ہو سکتا اور خصوصیت کیا رہے گی اسی لیے جو مصیبت میں وفا اور صدق رکھے گا خدا اسی سے خوش ہوگا ۔ نماز کو سنوار کر ادا کریں نماز ایسے نہ ادا کرو جیسے مرغی دانے کے لیے ٹھونگ مارتی ہے بلکہ سوز و گداز سے ادا کرو اور دعائیں بہت کیا کرو نماز مشکلات کی کنجی ہے ماثورہ دعاؤں اور کلمات کے سوا اپنی مادری زبان میں بھی بہت دعا کیا کروتا اس سے سوز و گداز کی تحریک ہو اور جب تک سوز و گداز نہ ہوا سے ترک مت کرو کیونکہ اس سے تزکیہ نفس ہوتا ہے اور سب کچھ ملتا ہے چاہیے کہ نماز کی جس قدر جسمانی صورتیں ہیں ان سب کے ساتھ دل بھی ویسے ہی تابع ہو