ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 86 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 86

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۸۶ ہونا بھی ضروری ہے خدا نے اس بات پر ہی کفایت نہیں کی کہ انسان کے لیے صرف لا اله الا الله منہ سے کہہ دینا ہی کافی ہو ورنہ قرآن شریف اس قدر ضخیم کتاب نہ ہوتی ایک فقرہ ہی ہوتا۔ عقائد کی مثال ایک باغ کی ہے جس کے بہت عمدہ پھل اور پھول ہوں اور اعمال صالحہ وہ مصفی پانی ہے جس کے ذریعے سے اس باغ کا قیام اور نشو و نما ہوتا ہے ایک باغ خواہ کتنا ہی اعلیٰ درجہ کا کیوں نہ ہولیکن اس کی آبپاشی اگر عمدہ نہ ہو تو آخر خراب ہو جاوے گا اسی طرح اگر عقیدہ کتنا ہی مضبوط کیوں نہ ہولیکن عمل صالح اگر اس کے ساتھ نہ ہوگا تو شیطان آکر تباہ کر دے گا۔ رض رض تلاش کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ تیسری صدی تک گل اہل اسلام کا یہی مذہب رہا ہے کہ گل نبی فوت ہو گئے ہیں چنانچہ صحابہ کرام کا بھی یہی مذہب تھا جب کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی ۔ صحابہ کا اجماع ہوا حضرت عمر وفات کے منکر تھے اور وہ آپ کو زندہ ہی مانتے تھے آخر ابو بکر نے آکر مَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ ( ال عمران: ۱۴۵) کی آیت سنائی تو حضرت عمر اور دیگر صحابہ کو آپ کی موت کا یقین آیا اور اگر صحابہ کرام کا یہ عقیدہ ہوتا کہ کوئی نبی زندہ ہے تو سب اٹھ کر ابو بکر کی خبر لیتے کہ ہمارا عقیدہ مسیح کی نسبت ہے کہ وہ زندہ ہے تو کیسے کہتا ہے کہ سب نبی فوت ہو گئے ۔ اور کیا وجہ ہے کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم زندہ نہ ہوں اگر بعض مرتے اور بعض زندہ ہوتے تو کسی قسم کا افسوس نہ ہوتا مگر غریب سے لے کر امیر تک سب مرتے ہیں پھر مسیح کو کیسے زندہ مانا جاوے تیسری صدی کے بعد حیات مسیح کا اعتقاد مسلمانوں میں شامل ہوا ہے وجہ اس کی یہ ہے کہ نئے نئے عیسائی مسلمان ہو کر ان میں ملتے گئے اور یہ قاعدہ کی بات ہے کہ جب ایک نئی قوم کسی مذہب میں داخل ہو تو اپنے مذہب کی رسوم اور بدعات جو وہ ہمراہ لاتی ہے اس کا کچھ حصہ نئے مذہب میں مل جاتا ہے ایسے ہی عیسائی جب مسلمان ہوئے تو یہ خیال ہمراہ لائے اور رفتہ رفتہ وہ مسلمانوں میں پختہ ہو گیا ہاں جن لوگوں نے ہمارا زمانہ نہیں پایا نہ اس مسئلہ پر انہوں نے بحث کی وہ تِلْكَ أُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ (البقرۃ: ۱۳۵) کے مصداق ہوئے لیکن اب جو ہمارے مقابلہ پر آئے اور اتمام حجت ان پر ہوا وہ قابلِ اعتراض ٹھہر گئے ہیں اگر ان لوگوں کے اعمال صالحہ ہوتے تو یہ عقیدہ ان