ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 62 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 62

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۶۲ جلد مگر ضروری امر یہ ہے کہ پہلے یہ سمجھ لے کہ تقویٰ کیا تقویٰ اور اس کے حصول کا طریق چیز ہے اور کیوں کر حاصل ہوتا ہے؟ تقویٰ تو یہ ہے که بار یک در بار یک پلیدگی سے بچے اور اس کے حصول کا یہ طریق ہے کہ انسان ایسی کامل تدبیر کرے کہ گناہ کے کنارہ تک نہ پہنچے اور پھر نری تدبیر ہی کو کافی نہ سمجھے بلکہ ایسی دعا کرے جو اس کا حق ہے کہ گداز ہو جاوے بیٹھ کر سجدہ میں ، رکوع میں ، قیام میں اور تہجد میں ، غرض ہر حالت اور ہر وقت اسی فکر و دعا میں لگا ر ہے کہ اللہ تعالیٰ گناہ اور معصیت کی خباثت سے نجات بخشے اس سے بڑھ کر کوئی نعمت نہیں ہے کہ انسان گناہ اور معصیت سے محفوظ اور معصوم ہو جاوے اور خدا تعالیٰ کی نظر میں راست باز اور صادق ٹھہر جاوے۔ تدبیر اور دعا کا کامل اتحاد لیکن یہ نعمت نہ تو نری تدبیر سے حاصل ہوتی ہے اور نہ نری دعا سے بلکہ یہ دعا اور تدبیر دونوں کے کامل اتحاد سے حاصل ہو سکتی ہے جو شخص نری دعا ہی کرتا ہے اور تدبیر نہیں کرتا ہے وہ شخص گناہ کرتا ہے اور خدا تعالیٰ کو آزماتا ہے ایسا ہی جو نری تدبیر کرتا ہے اور دعا نہیں کرتا وہ بھی شوخی کرتا اور خدا تعالیٰ سے استغنا ظاہر کر کے اپنی تجویز اور تدبیر اور زور بازو سے نیکی حاصل کرنی چاہتا ہے لیکن مومن اور سچے مسلمان کا یہ شیوہ نہیں وہ تدبیر اور دعا دونوں سے کام لیتا ہے۔ پوری تدبیر کرتا ہے اور پھر معاملہ خدا پر چھوڑ کر دعا کرتا ہے اور یہی تعلیم قرآن شریف کی پہلی ہی سورۃ میں دی گئی ہے چنانچہ فرمایا ہے إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَ إِيَّاكَ نَسْتَعِينُ (الفاتحة : ۵) جو شخص اپنے قوئی سے کام نہیں لیتا ہے وہ نہ صرف اپنے قومی کو ضائع کرتا اور ان کی بے حرمتی کرتا ہے بلکہ وہ گناہ کرتا ہے مثلاً ایک شخص ہے جو کنجروں کے ہاں جاتا ہے اور اسی وو ل البدر سے ” جیسے کہ خدا تعالیٰ نے تعلیم دی ہے إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِین جس کے یہ معنے ہیں کہ جو کچھ قوی خدا تعالیٰ نے انسان کو عطا کئے ہیں ان سے پورا کام لے کر پھر وہ انجام کو خدا کے سپرد کرتا ہے اور خدا تعالیٰ سے عرض کرتا ہے کہ جہاں تک تو نے مجھے توفیق عطا کی تھی اس حد تک تو میں نے اس سے کام لے لیا یہ إِيَّاكَ نَعْبُدُ کے معنے ہیں اور پھر إِيَّاكَ نَسْتَعِین کہہ کر خدا سے امداد چاہتا ہے کہ باقی مرحلوں کے لئے میں تجھ سے استمداد طلب کرتا البدر جلد ۳ نمبر ۹ مورخہ یکم مارچ ۱۹۰۴ صفحه ۳) ہوں۔ 66