ملفوظات (جلد 6) — Page 61
ملفوظات حضرت مسیح موعود ٦١ تقومی ہر ایک کامیابی کی جڑ تقوی اور سچا ایمان ہے اس کے نہ ہونے سے گناہ صادر ہوتے ہیں مقدر جو انسان کا ہے وہ اسے مل کر رہتا ہے پھر نہیں معلوم کہ خلاف تقویٰ امور کی ضرورت کیوں در پیش آتی ہے ایک چور چوری کر کے اپنا مقدر حاصل کرنا چاہتا ہے اگر وہ چوری نہ کرتا تو بھی حلال ذریعہ سے وہ اسے مل کر رہتا اسی طرح ایک زانی زنا کر کے عورتوں کی لذات حاصل کرتا ہے اگر وہ زنا نہ کرے تو جس قدر عورتوں کی لذات اس کے لئے مقدر ہیں وہ کسی نہ کسی طرح حلال ذرائع سے اسے مل کر رہتیں لیکن سارا فساد ایمان کا نہ ہونا ہے اگر تقویٰ پر قدم ماریں اور ایمان پر قائم رہیں کبھی کسی کو تکلیف نہ ہو اور خدا تعالیٰ سب کی حاجت روا کرتا ہے۔ لے ۲۰ رفروری ۱۹۰۴ء (دربار شام) انسان اگر اپنے نفس کی پاکیزگی اور طہارت کی فکر کرے اور الْخَبِيثَتُ لِلْخَبِيثِينَ اللہ تعالی سے دعائیں مانگ کر گنا ہوں سے بچتا ہے تواللہ تعالی یہی نہیں کہ اس کو پاک کر دے گا بلکہ وہ اس کا متکفل اور متولی بھی ہو جائے گا اور ایسے خبیثات سے بچائے گا۔ ہے الْخَبِيثُتُ لِلْخَبِيثِينَ ( النور : ۲۷) کے یہی معنے ہیں اندرونی معصیت، ریا کاری، معجب ، تکبر، خوشامد،خود پسندی، بدظنی اور بدکاری وغیرہ وغیرہ خباثتوں سے بچنا چاہیے ہے اگر اپنے آپ کو ان خباثتوں سے بچاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو پاک و مطہر کر دے گا۔ البدر جلد ۳ نمبر ۹ مورخہ یکم مارچ ۱۹۰۴ ء صفحه ۲ البدر سے ۔ اس لیے اندرونی پلیدی کا خیال رکھو کہ وہ تمہارے سارے قلب کو پلید نہ کر دیوے۔“ البدر جلد ۳ نمبر ۹ مورخه یکم مارچ ۱۹۰۴ صفحه ۳) ے البدر سے۔ ” بیباک ہو کر خدا کے احکام کو توڑنا اور شوخی اور شرارت سے اوامر کا انکار کرنا یہ بڑی خباثتیں ہیں جن سے بچنا نہایت ضروری ہے۔ البدر جلد ۳ نمبر ۹ مورخہ یکم مارچ ۱۹۰۴ صفحه ۳)