ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 59 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 59

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۵۹ پہلے اونٹ کا گھٹنا باندھتا اور پھر تو گل کرتا تو ٹھیک ہوتا۔ تدبیر تدبیر سے مراد وہ ناجائز وسائل نہیں ہیں جو کہ آج کل لوگ استعمال کرتے ہیں بلکہ مد بیر خدا تعالی کے احکام کے موافق ہر ایک سب اور ذریعہ کی تلاش کا نام تد بیر ہے۔ ایسے ہی انسان کو اپنے نفس کے تزکیہ کے لیے تدبیر سے کام لینا چاہیے اور شیطان جو اس کے پیچھے ہلاک کرنے کو لگا ہے اس کو دور کرنے کے واسطے تدابیر بھی سوچنی چاہیے بلکہ صوفیا نے لکھا ہے کہ کسی سے فریب کرنا اگر چہ نا جائز ہے لیکن شیطان کے ساتھ یہ جائز ہے۔ غرضیکہ متقی بننے کے لیے دعا بھی کرو اور تدابیر بھی کرو۔ دعا سے خدا کا فضل ہوتا ہے لیکن اگر انسان نے تدابیر سے کچھ طیاری نہ کی ہوئی ہو تو وہ فضل کس کام آوے گا۔ اس کی مثال ایسی ہے کہ ایک کسان اپنی زمین کی کلمبہ رانی تو نہ کرے نہ اسے صاف کرے نہ سہا گہ وغیرہ پھیرے صرف دعا کرتا رہے کہ بارش ہو جاوے اور اناج طیار ملے تو اس کی دعا کس کام آوے گی ؟ دعا اسی وقت فائدہ دے گی جب وہ اول کلبہ رانی کر کے زمین کو طیار رکھے گا۔ محجب اور ریا عُجب اور ریا بہت مہلک چیزیں ہیں ان سے انسان کو بچنا چاہیے انسان ایک عمل کر کے لوگوں کی مداح کا خواہاں ہوتا ہے۔ بظاہر وہ عمل عبادت وغیرہ کی صورت میں ہوتا ہے جس سے خدا راضی ہو مگر نفس کے اندر ایک خواہش پنہاں ہوتی ہے کہ فلاں فلاں لوگ مجھے اچھا کہیں اس کا نام دیا ہے اور عجب یہ کہ انسان اپنے عمل سے اپنے آپ کو اچھا جانے کہ نفس خوش ہو ان سے بچنے کی تدابیر کرنی چاہئیں کہ اعمال کا اجران سے باطل ہو جاتا ہے۔ اس مقام پر ڈاکٹر محمد اسمعیل خان صاحب نے عرض کی کہ حضور شیطان سے فریب کی کوئی مثال بیان فرمائی جاوے۔ چنانچہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے اسی ذکر میں مثال یوں بیان فرمائی کہ ایک مولوی ایک جگہ وعظ کر رہے تھے انہوں نے ایک دینی خدمت کے واسطے کئی ہزار روپیہ چندہ جمع کرنا تھا۔ ان کی وعظ اور ضرورت دینی کو دیکھ کر ایک شخص اُٹھا اور دو ہزار روپیہ کی ایک تھیلی