ملفوظات (جلد 6) — Page 58
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۵۸ آپ دبی آواز کھل کھلا کر ہنس پڑتے تھے اس پر حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ مسجد میں ہنسنا نہ چاہیے۔ جب دیکھا کہ ہنسی ضبط نہیں ہوتی تو اپنے باپ کی نصیحت پر یوں عمل کیا کہ صاحبزادہ صاحب او اسی وقت اُٹھ کر چلے گئے ۔ اے ۱۵ رفروری ۱۹۰۴ء کوئی آٹھ بجے رات کا وقت تھا کہ بمقام گورداسپور حضرت اقدس کے کمرہ میں چند احباب بیٹھے ہوئے تھے ۔ حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام کا روئے سخن جناب ڈاکٹر محمد اسمعیل خان صاحب احمدی انچارج پلیگ ڈیوٹی گورداسپور کی طرف تھا کہ تقوی کے مضمون پر حضرت اقدس نے ایک تقریر فرمائی۔ وہ تقریر اس وقت لکھی تو نہیں گئی مگر جو کچھ نوٹ اور یادداشت زبانی یاد رہ سکے ان کو عمل درآمد کے لئے درج اخبار کیا جاتا ہے۔ تو گل انسان کو چاہیے کہ تقوی کو ہاتھ سے نہ دیوے اور خدا پر بھروسہ رکھے تو پھر اسے کسی قسم توکل کی تکلیف نہیں ہو سکتی ۔ خدا پر بھروسہ کے یہ معنے نہیں ہیں کہ انسان تدبیر کو ہاتھ سے چھوڑ دے بلکہ یہ معنے ہیں کہ تدبیر پوری کر کے پھر انجام کو خدا پر چھوڑے اس کا نام تو گل ہے۔ اگر وہ تدبیر نہیں کرتا اور صرف تو گل کرتا ہے تو اس کا تو گل پھوکا (جس کے اندر کچھ نہ ہو ) ہوگا اور اگر نری تدبیر کر کے اس پر بھروسہ کرتا ہے اور خدا پر تو گل نہیں ہے تو وہ تدبیر بھی پھوکی ( جس کے اندر کچھ نہ ہو ) ہوگی ۔ ایک شخص اونٹ پر سوار تھا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس نے دیکھا۔ تعظیم کے لیے نیچے اُترا اور ارادہ کیا کہ تو گل کرے اور تدبیر نہ کرے چنانچہ اُس نے اپنے اونٹ کا گھٹنا نہ باندھا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مل کر آیا تو دیکھا کہ اونٹ نہیں ہے واپس آکر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی کہ میں نے تو تو گل کیا تھا لیکن میرا اونٹ جاتا رہا آپ نے فرمایا کہ تو نے غلطی کی ۔ البدر جلد ۳ نمبر ۸ مورخه ۲۴ فروری ۱۹۰۴ ء صفحه ۲، ۳