ملفوظات (جلد 6) — Page 362
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۶۲ جلد ششم جاتی ہے۔ اس وقت میری نصیحت یا درکھیں آج کے بعد آپ مجھے یہاں نہ دیکھیں گے اور میں نہیں جانتا کہ پھر موقع ہو یا نہ ہو لیکن ان تفرقوں کو مٹانے کی کوشش کرو۔ میری نسبت خواہ آپ کا کچھ ہی خیال ہو لیکن یہ سمجھ کر کہ مرد باید که گیرد اندر گوش در نوشت است پند بر دیوار میری نصیحت پر عمل کرو جو شخص خود زہر کھا چکا ہے وہ دوسروں کی زہر کا کیا علاج کرے گا۔ اگر علاج کرتا ہے تو خود بھی مرے گا اور دوسروں کو بھی ہلاک کرے گا کیونکہ زہراس میں اثر کر چکا ہے اور اس کے حواس چونکہ قائم نہیں رہے اس لیے اس کا علاج بجائے مفید ہونے کے مضر ہوگا۔ غرض جس قدر تفرقہ بڑھتا جاتا ہے اس کا باعث وہی لوگ ہیں جنہوں نے زبانوں کو تیز کرنا ہی سیکھا ہے۔ دوسرے مذاہب کی حیثیت یہ بھی یادرکھو کہ میرا یہ ذہبی نہیں کہ اسلام کے واسب مذاہب بالکل جھوٹے ہیں۔ میں یہ یقین رکھتا ہوں کہ وہ خدا جو تمام مخلوق کا خدا ہے وہ سب پر نظر رکھتا ہے یہ نہیں ہوتا کہ وہ ایک ہی قوم کی پروا کرے اور دوسروں پر نظر نہ کرے۔ ہاں یہ سچ کہ حاکم کے دورے کی طرح کبھی کسی قوم پر وہ وقت آ جاتا ہے اور کبھی کسی پر ۔ میں کسی کے لیے نہیں کہتا۔ خدا تعالیٰ نے مجھ پر ایسا ہی ظاہر کیا ہے کہ راجہ رامچندر اور کرشن جی وغیرہ بھی خدا کے راستباز بندے تھے اور اس سے سچا تعلق رکھتے تھے۔ میں اس شخص سے بیزار ہوں جو ان کی نند یا یا توہین کرتا ہے۔ اس کی مثال کنوئیں کے مینڈک کی سی ہے جو سمندر کی وسعت سے نا واقف ہے۔ جہاں تک ان لوگوں کے صحیح سوانح معلوم ہوتے ہیں اس سے پایا جاتا ہے کہ ان لوگوں نے خدا کی راہ میں مجاہدات کیے اور کوشش کی کہ اسی راہ کو پائیں جو خدا تعالیٰ تک پہنچنے کی حقیقی راہ ہے۔ پس جس شخص کا یہ مذہب ہو کہ وہ راستباز نہ تھے وہ قرآن شریف کے خلاف کہتا ہے کیونکہ اس میں فرمایا ہے اِن مِّنْ أُمَّةٍ إِلَّا خَلَا فِيهَا نَذِيرٌ (فاطر: ۲۵) یعنی کوئی قوم اور اُمت ایسی نہیں گذری جس میں کوئی نذیر نہ آیا ہو۔ میں بابا نانک صاحب کو بھی خدا پرست سمجھتا ہوں اور کبھی پسند نہیں کرتا کہ ان کو بُرا کہا جائے ۔ میں ان کو ان لوگوں میں سے سمجھتا ہوں جن کے دل میں