ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 359 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 359

ملفوظات حضرت مسیح موعود اپنی جگہ پر جا کر سوچو !!!! ۱۳ ستمبر ۱۹۰۴ء بمقام لاہور ) ۳۵۹ مذہبی رواداری کی تعریف حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام کی تمیری تقریر و حضور نے سے کی ۔ (ایڈیٹر ) بارہ ہزار سے زائد آدمیوں کے مجمع میں حاضرین کی بے حد خواہش میں آپ سب صاحبوں کا شکر کرتا ہوں کہ آپ نے نہایت صبر اور خاموشی کے ساتھ میرے لیکچر کو سنا۔ میں ایک مسافر آدمی ہوں اور کل صبح انشاء اللہ چلا جاؤں گا۔ لیکن میں اس شکر اور خوشی کو ساتھ لے جاؤں گا اور یاد رکھوں گا کہ باوجود اختلاف رائے کے (کہ جس کی وجہ سے عموماً جوش پیدا اور ہو جاتا ہے ) آپ نے نیکی اور نیک اخلاقی اور آہستگی سے میرے مضمون کو سنا۔ میں یہ جانتا ہوں خود محسوس کرتا ہوں کہ مدت کے خیالات کو چھوڑ نا سہل اور آسان نہیں ہوتا خواہ وہ کتنے ہی غلط کیوں نہ ہوں۔ یہ محض اللہ تعالیٰ کے فضل پر موقوف ہے کہ انسان اپنے اندر علمی یا عملی تبدیلی کر سکے لیکن جو اخلاق آپ نے دکھائے ہیں وہ نہایت ہی قابل تعریف ہیں اور میں دعا کرتا ہوں کہ جیسے اللہ تعالیٰ نے عام طور پر یہ اجتماعی رنگ دکھایا ہے وہ ایسا وقت اور زمانہ بھی لاوے کہ دلوں میں بھی اتحاد اور اجتماع ہو۔ اس ملک کو تفرقہ نے بہت نقصان پہنچایا ہے۔ ایک زمانہ تھا کہ اس ملک کے ہندوؤں اور مسلمانوں میں بہت بڑا اتحاد اور اتفاق تھا اور باوجود اختلاف مذاہب بھی ان میں قابلِ قدر میل ملاپ تھا مگر اس زمانہ میں فرق آگیا اور خدا کرے کہ یہ دور ہو جائے ۔ یا درکھو کہ یہ تنگ دلی اور تنگ ظرفی کا نشان ہے کہ انسان اختلاف شریعت و مذہب کی وجہ سے اخلاق کو بھی چھوڑ دے۔ اختلافِ رائے اور چیز ہے اور اخلاق اور ۔ یہ انسانی اخلاق کی خوبی اور کمال ہے کہ باوجود اختلاف رائے کے اخلاقی کمزوری نہ دکھائے ۔ آج کے جلسہ نے مجھے ایک تازہ الحکم جلد ۸ نمبر ۳۳ مورخه ۳۰ ستمبر ۱۹۰۴ء صفحه ۱ تا ۳ ۸