ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 358 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 358

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۵۸ جلد یہ سچ ہے کہ اس وحی کی بنا پر جو خدا تعالیٰ کی کامل اور مجید کتاب کی شرح میں ہے میں نے کہا کہ مسیح مر گیا ہے لیکن اس کی مخالفت کیوں کی جاتی ہے؟ کیوں یہ قرآن شریف کو غور سے نہیں پڑھتے ۔ کیا ان کو شرم نہیں آتی ہے کہ یہ مسلمان کہلاتے ہیں۔ موحد کہلاتے ہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو افضل الانبیاء اور خیر البشر تسلیم کرتے ہیں۔ لیکن جب وہی لفظ توفی کا آپ پر آتا ہے تو اس کے معنے موت کرتے ہیں اور جب مسیح پر آتا ہے تو زندہ مع جسم آسمان پر اٹھائے جاتے ہیں۔ ان کی غیرت کو کیا ہوا ؟ یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ایسی ہتک کیوں روا رکھتے ہیں کیا قرآن شریف میں نعِدُهُم أَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ (يونس: ۴۷) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے نہیں آیا اور وہی لفظ مسیح کے لیے مُتَوَفِّيكَ اور فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِی میں آیا ہے۔ پھر یہ کیا ہو گیا کہ ایک جگہ کچھ اور معنے اور ایک جگہ کچھ اور ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا ہی کمزور نبی سمجھا ہے جو انہیں زمین میں دفن کرتے ہیں اور مسیح کو آسمان پر چڑھاتے ہیں !!! اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت ہوتی تو آپ کے جلال اور شوکت کے لیے غیرت ہے تو کیوں نہیں کہہ دیتے کہ وہ بھی زندہ آسمان پر اٹھائے گئے ہیں ۔ تب میں بھی سمجھ لیتا کہ یہ سیر کی خصوصیت نہیں ٹھہراتے مگر موجودہ حالت میں میرا دل گوارا نہیں کر سکتا کہ میں قرآن شریف کے ایسے معنے کروں جو خود قرآن شریف اور لغت اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تفسیر کے خلاف ہوں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک شان کا باعث ہوں ۔ میں سچ کہتا ہوں کہ جس شخص نے یہ لکھا ہے کہ جو شخص یہ کہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم زندہ نہیں وہ کافر ہے وہ سچ کہتا ہے۔ اس خصوصیت کے پیدا کرنے کا ہی یہ نتیجہ ہے کہ تین لاکھ مرتد ہو گیا ۔ خدا کے واسطے اس قدر ظلم نہ کرو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اور رتبہ کو گھٹا یا جاوے جو اس عقیدہ سے برا بر گھٹتی ہے کہ وہ تو زمین میں دفن کئے گئے اور مسیح آسمان پر اٹھایا گیا۔ مسیح ہرگز زندہ نہیں رہا۔ وہ مر گیا جیسا کہ خدا تعالیٰ نے فیصلہ کر دیا کہ یعِیسَی إِنِّي مُتَوَفِّيكَ (ال عمران : ۵۶) اور خود مسیح نے اقرار کر لیا کہ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي (المائدة : ١١٨) ۔ میں پھر کہتا ہوں کہ عیسائیوں کو اعتراض کا موقع نہ دو۔ میری باتوں کو سنو اور غور سے سنو اور پھر