ملفوظات (جلد 6) — Page 353
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۵۳ جلد شش نے خدا تعالیٰ اس قسم کے مشکلات ان لوگوں کو کیوں پیش آئے؟ اس کی وجہ بجز اس کے کچھ نہیں کہ انہوں اتعالیٰ کی پیشگوئیوں پر غور نہیں کیا اور ظاہر الفاظ پر اڑے رہے۔ اسی قسم کے مشکلات اس وقت مسلمانوں کو پیش آئے ہیں لیکن اگر غور کیا جاوے تو ان کے سامنے تو کوئی نظیر اور فیصلہ موجود نہ تھا لیکن ان کے سامنے تو دوبارہ آنے کا مقدمہ فیصل شدہ موجود ہے جو خود حضرت عیسی علیہ السلام کی عدالت سے فیصل ہو چکا ہے۔ انہوں نے تاویل کر کے بتادیا تھا کہ دوبارہ آنے والے شخص سے مراد وہی نہیں ہوتا ۔ پھر کس قدر افسوس ہے ان پر کہ یہ اس فیصلہ سے فائدہ نہیں اٹھاتے لَا يُلْدَعُ الْمُؤْمِنُ مِنْ حُجْرٍ وَاحِدٍ مَرَّتَيْنِ ۔ یہودیوں کو جس پتھر سے ٹھوکر لگی اور وہ لعنتی ہو گئے اس پتھر سے یہ ٹھوکر کھاتے ہیں۔ یہودی اس وقت دنیا میں موجود ہیں۔ ان کی کتابیں موجود ہیں۔ ان سے دریافت کر لو کہ کیا ان کا یہ عقیدہ تھا یا نہیں کہ مسیح سے پہلے الیاس آئے گا اور ملا کی نبی کی کتاب میں یہ پیشگوئی درج ہے یا نہیں؟ اور پھر عیسائیوں سے پوچھو اور انجیل میں اس فیصلہ کو پڑھو جو سیح نے خود کیا ہے۔ مومن تو دوسرے کی مصیبت سے عبرت پکڑتا ہے لیکن ان مسلمانوں نے اس سے کیا سبق سیکھا؟ یہودی عقیدہ ہے جس کی وجہ سے یہودی واصل جہنم ہوئے اب کیا یہ بھی یہی چاہتے ہیں؟ میں حیران ہوتا ہوں کہ ان عقلوں کو کیا ہو گیا ؟ اگر حضرت مسیح کا وہ فیصلہ جو انہوں نے الیاس کے دوبارہ آنے کے متعلق کیا ہے صحیح نہیں ہے تو پھر مجھے جواب دیں کہ حضرت مسیح سے پیغمبر کیوں کر ہو سکتے ہیں؟ کیونکہ اس میں تو کوئی کلام اور شبہ ہی نہیں کہ ان کے آنے سے پیشتر ایلیا کا آنا ضروری تھا اور ایلیا آسمان سے نہیں آیا۔ پھر حضرت مسیح کیوں کر سچے نبی ٹھہریں گے؟ اس عقیدہ فاسدہ سے یہی نہیں کہ یہودیوں کی طرح حضرت عیسی کی رسالت سے انکار کرنا پڑے گا بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت بھی معاذ اللہ ہاتھ سے جائے گی کیونکہ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم ) کی آمد اور بعثت حضرت مسیح کے بعد ہے اور جب ابھی تک مسیح بھی نہیں آیا تو پھر اسلام کیوں کر صحیح ہوگا ؟ سوچو اور غور کرو کہ تمہاری ذراسی ٹھوکر کا اثر کہاں تک پہنچتا ہے؟