ملفوظات (جلد 6) — Page 352
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۵۲ جلد ظاہر پرست اس پر اڑ جاتے ہیں اور اصل مقصد سے دور جا پڑتے ہیں ۔ اسی طرح پر ان یہودیوں کو یہ مشکل پیش آئی کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق شک میں پڑ گئے۔ اگر تو رات میں وہ پیشگوئی صاف الفاظ میں ہوتی کہ آنے والا نبی بنی اسماعیل میں سے ہوگا اور اس کا نام محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ہوگا۔ اس کے باپ کا نام عبداللہ بن عبد المطلب ہوگا اور اس کی ماں کا نام آمنہ ہوگا تو یہودی کیوں کر انکار کرتے ؟ مگر ان کی بد قسمتی سے پیشگوئی میں ایسی صراحت نہ تھی ۔ وہاں لکھا تھا کہ تیرے بھائیوں میں سے وہ اس سے مراد بنی اسرائیل ہی سمجھتے رہے ۔ ایسا ہی حضرت عیسی علیہ السلام کے وقت بھی یہودیوں کو ٹھوکر لگی تھی۔ ملا کی نبی کی کتاب میں حضرت مسیح کے آنے سے پہلے ایلیا کے آنے کی پیشگوئی درج ہے۔ جب حضرت مسیح آگئے اور انہوں نے دعویٰ کیا تو یہودی مخالفت کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے کہ پہلے الیاس کا آنا ضروری ہے۔ اس لیے وہ انکار کرنے لگے چنانچہ انہوں نے خود حضرت مسیح سے یہی سوال کیا کہ الیاس کا آنا جو مسیح سے پہلے ضروری ہے وہ کہاں ہے ؟ حضرت مسیح نے کہا کہ آنے والا الیاس آ گیا ہے یعنی وہ یوحنا ابن زکریا کے رنگ میں آیا ہے چاہو تو قبول کرو مگر یہ بات ان کی تسلی کا موجب کیوں کر ہو سکتی تھی ۔ وہ اس بات پر اڑے رہے کہ وہاں کسی مثیل کے آنے کی خبر تو دی نہیں گئی وہاں تو خود ایلیا کے آنے کا وعدہ ہے۔ اس بنا پر وہ انکار کرتے رہے اور دکھ اور تکلیفیں بھی پہنچاتے رہے یہاں تک کہ اب بھی یہودی یہی یقین رکھتے ہیں۔ میرے پاس ایک فاضل یہودی کی کتاب ہے۔ اس نے اس مسئلہ پر ایک لمبی بحث کی ہے اور کہا ہے کہ ہم اس مسیح کو کیوں کر قبول کر سکتے تھے جبکہ اس سے پہلے ایلیا نہیں آیا۔ یہ شخص جو یسوع مسیح ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اس کا دعوٹی بناوٹی اور جھوٹا ہے کیونکہ وہ ایلیا کے دوبارہ آنے کی جھوٹی تاویل کرتا ہے۔ ہم اس کے خالہ زاد بھائی بیٹی کو کیوں کر ایلیا سمجھ لیں پھر وہ لوگوں کے سامنے اپیل کرتا ہے کہ ہم کس طرح پر اس شخص کے دعوی کو تسلیم کر لیں جبکہ ہمیں یہ خبر دی گئی تھی کہ پہلے ایلیا آئے گا۔ اس میں کسی مثیل کا وعدہ نہیں کیا گیا۔ آخر میں کہتا ہے کہ اگر خدا تعالیٰ قیامت کو ہم سے سوال کرے گا کہ کیوں اس مسیح کو قبول نہیں کیا تو ہم ملا کی نبی کی کتاب کھول کر اس کے سامنے رکھ دیں گے۔