ملفوظات (جلد 6) — Page 339
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۳۹ جلد ششم ہے۔ اسی پاک تعلیم کی سچی اور کامل پیروی سے ولی اللہ اور ابدال بنتے ہیں ۔ بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ ولی اللہ یا ابدال بننے کے لیے کوئی خاص راہ ہے جو قرآن شریف میں نہیں ہے۔ وہ سخت نادان اور غلطی پر ہیں ۔ یہی وہ راہ ہے جس سے یہ درجے بھی حاصل ہوتے ہیں ۔ ولی یا ابدال کیا کرتے ہیں؟ یہی کہ وہ سچی تبدیلی کر لیتے ہیں اور قرآن شریف کی تعلیم کا سچا متبع اپنے آپ کو بناتے ہیں اور نیکی کو اس حد اور درجہ تک کرتے ہیں جو اس کے کمالات کے لیے مقرر ہے۔ یہی نماز، روزہ، زکوۃ، صدقات وغیرہ وہ بھی بجالاتے ہیں لیکن ان میں اور دوسرے لوگوں میں اس قدر فرق ہے کہ وہ اس حد تک ان اعمالِ صالحہ کو بجالاتے ہیں کہ ان میں ایک قوت اور طاقت آجاتی ہے اور ان سے وہ افعال سرزد ہوتے ہیں جو دوسروں کی نظر میں خوارق ہوتے ہیں ۔ اس کی وجہ کیا ہے؟ یہی کہ وہ اعمالِ صالحہ کو پورے طور پر بجالاتے ہیں۔ پس جو شخص پوری نیکی کرتا ہے اور اس کو ادھورا اور ناقص نہیں چھوڑتا اور قرآن شریف کی تعلیم کا پورا پابند اپنے آپ کو بنا لیتا ہے وہ یقیناً ولی اور ابدال ہو جاتا ہے جو چاہے بن سکتا ہے ۔ ہاں یہ سچ ہے کہ اسکے واسطے بڑی دعاؤں کی ضرورت ہے۔ اور دعا کی تعلیم بھی قرآن شریف کی تعلیم ہے۔ جس کے لیے جا بجا ہدایت کی گئی ہے بلکہ اس کا شروع ہی دعا سے ہوا ہے ۔ اس بات کو کبھی فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ جیسے اگر کسی شخص کو زندہ رکھنا مقصود ہے تو ضرور ہے کہ اس کو پوری غذا دی جاوے۔ چند دانوں پر اس کی زندگی کی امید کرنا خیال خام ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ میں زندگی حاصل کرنے کے لیے پوری نیکیوں کا کرنا ضروری ہے جو اس طریق کو چھوڑتا ہے وہ آج نہیں کل مر جاوے گا ۔ قرآن شریف نے اسی اصل کو بتایا ہے جو زیادہ حظ اٹھانا چاہتا ہے اسے چاہیے کہ زیادہ توجہ کرے۔ جس سے مخالف بغض رکھتے جماعت احمد یہ کے لیے خصوصی نصائح ہماری جماعت (جس ہیں اور چاہتے ہیں کہ یہ جماعت ہلاک اور تباہ ہوجاوے) کو یا د رکھنا چاہیے کہ میں اپنے مخالفوں سے باوجود ان کے بغض کے ایک بات میں اتفاق رکھتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے چاہا ہے کہ یہ جماعت گناہوں سے پاک ہو اور اپنے