ملفوظات (جلد 6) — Page 338
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۳۸ جلد ششم کے ساتھ کس قسم کے ہیں؟ ان میں خدا تعالیٰ کا خوف کس درجہ تک ہے؟ ان باتوں پر جب آپ غور کریں گے اور خالی الذہن ہو کر غور کریں گے تو صاف معلوم ہو جائے گا کہ یہ وہ وقت آیا ہے کہ خدا تعالیٰ کے ساتھ کوئی رشتہ اور پیوند لوگوں نے رکھا ہی نہیں ہے۔ اکثر ایسے ہیں جو خدا تعالیٰ کے وجود اور ہستی ہی کا یقین نہیں رکھتے اور جو بعض مانتے ہیں کہ خدا ہے ان کا ماننا نہ ماننا برابر ہو رہا ہے کیونکہ وہ تقوی اللہ اور خَشْيَةُ الله جو خدا تعالیٰ پر ایمان لانے سے پیدا ہوتی ان میں پائی نہیں جاتی ۔ گناہ سے نفرت اور احکام الہی کی پابندی اور نواہی سے بچنا نظر نہیں آتا۔ پھر کیوں کر تسلیم کر لیا جاوے کہ یہ لوگ فی الحقیقت خدا تعالیٰ پر ایمان لائے ہوئے ہیں ۔ اے اور ماسوا اس کے یہ بھی یا درکھنا چاہیے کہ خدا تعالیٰ کے ساتھ جب تک کامل اور پورا تعلق نہ ہو وہ برکات اور فیوض جو اس تعلق کے لازمی نتائج ہیں حاصل نہیں ہوتے۔ اس کی مثال ایسی ہے کہ جہاں ایک پیالہ پانی کا پی کر سیر ہونا ہو وہاں ایک قطرہ کہاں تک مفید ہو سکتا ہے اور تشنہ لبی کو بجھا سکتا ہے اور جہاں دس تولہ دوا کھانی ہو وہاں ایک چاول یا ایک رتی سے کیا ہوگا ؟ اسی طرح پر جب تک انسان پورے طور پر خدا تعالیٰ کا مطیع اور وفادار بندہ نہیں بنتا اور کامل نیکی نہیں کرتا اس وقت تک اس کے انوار و برکات ظاہر نہیں ہوتے ۔ ادھوری اور نا تمام باتوں سے بعض اوقات ٹھو کر لگتی ہے۔ ایک شخص نیکی کو اس کے کمال تک تو پہنچاتا نہیں اور اس سے ان ثمرات کی توقع کرتا ہے جو اس کے درجہ کمال پر پیدا ہوتے ہیں اور جب وہ نہیں ملتے تو اس سچی اور پاک تعلیم سے بدظن ہونے لگتا ہے اور کہتا ہے کہ کچھ بھی نہیں ۔ بہت سے لوگ اس طرح پر بھی گمراہ ہوئے ہیں لیکن میں یقیناً کہتا ہوں کہ قرآن شریف نے جو تعلیم پیش کی ہے اور جس طریق پر نیکی کی راہیں بتائی ہیں ان پر اور اس درجہ تک عامل ہونے سے انسان وہ تمام کمالات اور برکات حاصل کر سکتا ہے جن کا وعدہ دیا گیا لے حاشیہ از ایڈیٹر ۔ (وَلِلَّهِ دَرُّ مَنْ قَالَ ) از عمل ثابت کن آن نوری که در ایمان تست دل چو دادی یوسفی را راه کنعان را گزین (حضرت مسیح موعود علیہ السلام)