ملفوظات (جلد 6) — Page 330
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۳۰ جلد تھا کہ اس مجمع پر نگاہ ڈالنے سے اللہ تعالیٰ کی عظمت اور جلال کا پتا لگتا تھا اور صاف سمجھ میں آتا تھا کہ یہ جذب اور کشش کسی مفتری اور کذاب کو نہیں دیا جاتا۔ آپ خاموش بیٹھے تھے کہ خاکسارایڈیٹر الحکم نے ایک ارادت مند کی طرف سے عرض کیا کہ وہ کچھ سنانا چاہتا ہے۔ فرمایا۔ ہاں سنا دو۔ اس پر اس شخص نے نہایت پر درد اور پر جوش لہجہ میں بزبانِ پنجابی کچھ اشعار سنائے جن میں حضرت حجتہ اللہ کی بعثت ، آپ کی صداقت پر بحث تھی اور بالآخر اہل لاہور کو خطاب تھا کہ دیکھو ! مسیح موعود تمہارے گھر مہمان ہو کر آیا ہے۔ تمہارا فرض تو یہ ہے کہ تم اس کا اکرام کرو اور نہ یہ کہ سب وشتم سے کام لو۔ مہمانوں کے ساتھ اس قسم کا سلوک مناسب نہیں ۔ اور پھر طاعون کے زور آور حملوں سے ڈرایا تھا۔ یہ نظم بہت ہی مؤثر اور رقت خیز تھی جس کو سن کر اکثر حاضرین رور ہے تھے۔ نظم ختم ہو جانے کے بعد حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام نے ذیل کی تقریر فرمائی ۔ (ایڈیٹر ) پیدائش انسانی کی غرض تمام مسلمان جو یہاں اکٹھے ہوئے ہیں میں سمجھتا ہوں کہ ہر ایک کی غرض دین ہے۔ یہ میں جانتا ہوں کہ کوئی تھوڑا جوش رکھتا ہے کوئی زیادہ لیکن کچھ نہ کچھ غرض دین کی رکھتا ضرور ہے۔ یقیناً سمجھو کہ ہر شخص اپنے اندازہ کے موافق عمر کا ایک حصہ کھا چکا ہے۔ بڑی عمر ہوگئی ہے تب بھی تھوڑے دن باقی ہیں اور تھوڑی ہے تب بھی تھوڑے ہی باقی ہیں کیونکہ گذرنے والے زمانہ کو ہمیشہ تھوڑا خیال کیا جاتا ہے۔ پس یا درکھو کہ انسان جو اس مسافر خانہ میں آتا ہے اس کی اصل غرض کیا ہے؟ اصل غرض انسان کی خلقت کی یہ ہے کہ وہ اپنے ربّ کو پہچانے اور اس کی فرمانبرداری کرے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (اللریت : (۵۷) میں نے جن اور انس کو اس لیے پیدا کیا ہے کہ وہ میری عبادت کریں ۔ مگر افسوس کی بات ہے کہ اکثر لوگ جو دنیا میں آتے ہیں بالغ ہونے کے بعد بجائے اس کے کہ اپنے فرض کو سمجھیں اور اپنی زندگی کی غرض اور غایت کو مد نظر رکھیں وہ خدا کو چھوڑ کر دنیا کی طرف مائل ہو جاتے ہیں اور دنیا کا مال اور اس کی عزتوں کے ایسے دلدادہ ہوتے ہیں کہ خدا کا حصہ بہت ہی تھوڑا ہوتا ہے اور بہت لوگوں کے دل میں تو ہوتا ہی نہیں ۔ وہ دنیا ہی میں منہمک اور فنا