ملفوظات (جلد 6) — Page 329
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۲۹ ۲۸ اگست ۱۹۰۴ء ( بمقام لاہور ) بیعت کے بعد جماعت کے لوگ مصافحہ کے لئے اُمنڈ پڑے۔ چونکہ ایسے انبوہ میں دوست دشمن کی تمیز ہونی مشکل تھی اس لئے چند جان شاروں نے پولیس کو ایما کیا کہ سختی سے لوگوں کو پراگندہ کر دیا جاوے اور خود ایک حلقہ باندھ کر اس روحانی گروہ کے سالار قافلہ کے گرد کھڑے ہو گئے کہ کوئی گزند کسی قسم کا نہ پہنچے۔ لوگوں سے درشتی ہوتی دیکھ کر آخر کار بنی نوع انسان کے سچے ہمدرد اور غمگسار مرسل من اللہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے نہ رہا گیا اور آپ نے فرمایا کہ ہماری جماعت کے بعض لوگ بعض پر سختی کر رہے ہیں جو کہ ہمیں پسند نہیں ۔ اس لئے ان کو اور پولیس کو منع کر دیا جاوے کہ درشتی سے پیش نہ آویں میں تو کہتا ہوں کہ وَلَا تُصَعِرُ لِخَلْقِ اللهِ کا الہام جو ہوا تھا وہ آج ہی کے روز کے لئے ہے کہ جو لوگ ہم سے ملنا چاہتے ہیں ان کو سختی سے روکا جاتا ہے۔ پس میں چاہتا ہوں کہ کسی کو روکا نہ جاوے اور سب کو اجازت دی جاوے کہ وہ ملاقات کریں۔ ۲ رستمبر ۱۹۰۴ء (بمقام لاہور ) رو پرور بس کی رو بعد نماز جمعہ حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام زائرین اور مشتاقان زیارت کے اصرار و خواہش پر اجلاس فرما ہوئے ۔ حاضرین میں سے ہر ایک دوسرے سے پہلے آگے بڑھنا چاہتا تھا ان کے بڑھے ہوئے جوش زیارت اور شوق ارادت میں انتظام کا ہونا کوئی آسان امر نہ تھا۔ دھکے پر دھکا کھاتے تھے اور آگے بڑھتے جاتے تھے۔ آخر جب حضرت کا حکم سنا کہ بیٹھ جاؤ۔ جو جہاں کھڑا تھا وہیں بیٹھ گیا۔ وہ نظارہ جن لوگوں نے دیکھا ہے اس کا لطف اور اثر کچھ وہی دل محسوس کر سکتے ہیں ۔ حضرت حجۃ اللہ کے انفاس طیبہ کا کچھ ایسا اثر پڑ رہا البدر جلد ۳ نمبر ۳۳ مورخہ یکم ستمبر ۱۹۰۴ صفحه ۲