ملفوظات (جلد 6) — Page 290
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۹۰ جلد گھوڑے کی طرح ہو گئے ہیں۔ نہ خدا کا خوف رہا ہے نہ آخرت کا یقین ہے۔ دنیاوی لذات کو اپنا معبود بنا رکھا ہے۔ پس سب سے اول ضروری ہے کہ اس آزادی اور بے پردگی سے پہلے مردوں کی اخلاقی حالت درست کرو اگر یہ درست ہو جاوے اور مردوں میں کم از کم اس قدر قوت ہو کہ وہ اپنے نفسانی جذبات کے مغلوب نہ ہو سکیں تو اس وقت اس بحث کو چھیڑو کہ آیا پردہ ضروری ہے کہ نہیں ۔ ور نہ موجودہ حالت میں اس بات پر زور دینا کہ آزادی اور بے پردگی ہو گو یا بکریوں کو شیروں کے آگے رکھ دینا ہے۔ ان لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ کسی بات کے نتیجہ پر غور نہیں کرتے۔ کم از کم اپنے کانشنس سے ہی کام لیں کہ آیا مردوں کی حالت ایسی اصلاح شدہ ہے کہ عورتوں کو بے پردہ ان کے سامنے رکھا جاوے۔ قرآن شریف نے ( جو کہ انسان کی فطرت کے تقاضوں اور کمزوریوں کو مد نظر رکھ کر حسب حال تعلیم دیتا ہے ) کیا عمدہ مسلک اختیار کیا ہے قُلْ لِلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَ يَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ ذَلِكَ أَزْكَى لَهُم ( النور : (۳) که تو ایمان والوں کو کہہ دے کہ وہ اپنی نگاہ ہیں کو نیچا رکھیں اور اپنے سوراخوں کی حفاظت کریں۔ یہ وہ عمل ہے جس سے ان کے نفوس کا تزکیہ ہوگا۔ فروج سے مراد شرمگاہ ہی نہیں بلکہ ہر ایک سوراخ جس میں کان وغیرہ بھی شامل ہیں اور اس میں اس امر کی مخالفت کی گئی ہے کہ غیر محرم عورت کا راگ وغیرہ سنا جاوے۔ پھر یاد رکھو کہ ہزار در ہزار تجارب سے یہ بات ثابت شدہ ہے کہ جن باتوں سے اللہ تعالیٰ روکتا ہے آخر کار انسان کو ان سے رکنا ہی پڑتا ہے۔ ( تعدد ازواجی اور طلاق کے مسئلہ پر غور کرو۔ ) ع هر چه دانا کند نادان لیک بعد از خرابی بسیار ہمیں افسوس ہے کہ آریہ صاحبان بھی بے پردگی پر زور دیتے ہیں اور قرآن شریف کے احکام کی مخالفت چاہتے ہیں ۔ حالانکہ اسلام کا یہ بڑا احسان ہندوؤں پر ہے کہ اس نے ان کو تہذیب سکھلائی اور اس کی تعلیم ایسی ہے جس سے مفاسد کا دروازہ بند ہو جاتا ہے۔ مثل مشہور ہے۔ خر بسته به گرچه دزد آشنا است یہی حالت مرد اور عورت کے تعلقات کی ہے کہ اگر چہ کچھ ہی کیوں نہ ہولیکن تاہم فطری