ملفوظات (جلد 6) — Page 289
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۸۹ معلوم ہوتی ہے۔ یہ تو جملہ معترضہ تھا جو کہ درمیان میں آگیا۔ عورتوں کی اصلاح کی ضرورت پھر میں اصل مطلب کو بیان کرتا ہوں کہ اگر تم اپنی اصلاح چاہتے ہو تو یہ بھی لازمی امر ہے کہ گھر کی عورتوں کی اصلاح کرو۔ عورتوں میں بت پرستی کی جڑ ہے کیونکہ ان کی طبائع کا میلان زینت پرستی کی طرف ہوتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ بت پرستی کی ابتدا انہی سے ہوئی ہے۔ بزدلی کا مادہ بھی ان میں زیادہ ہوتا ہے کہ ذراسی سختی پر اپنی جیسی مخلوق کے آگے ہاتھ جوڑ نے لگ جاتی ہے، اس لیے جو لوگ زن پرست ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہوتے ہیں رفتہ رفتہ ان میں بھی یہ عادتیں سرایت کر جاتی ہیں ۔ پس بہت ضروری ہے کہ ان کی اصلاح کی طرف متوجہ رہو۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے الرِّجَالُ قَوْمُونَ عَلَى النِّسَاءِ (النساء:۳۵) اور اسی لیے مرد کو عورتوں کی نسبت قوی زیادہ دیئے گئے ہیں۔ اس وقت جونئی روشنی کے لوگ مساوات پر زور دے رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ مرد اور عورت کے حقوق مساوی ہیں ان کی عقلوں پر تعجب آتا ہے۔ وہ ذرا مردوں کی جگہ عورتوں کی فوجیں بنا کر جنگوں میں بھیج کر دیکھیں تو سہی کہ کیا نتیجہ مساوی نکلتا ہے یا مختلف ۔ ایک طرف تو اسے حمل ہے اور ایک طرف جنگ ہے وہ کیا کر سکے گی؟ غرضیکہ عورتوں میں مردوں کی نسبت قوی کمزور ہیں اور کم بھی ہیں۔ اس لیے مرد کو چاہیے کہ عورت کو اپنے ماتحت رکھے۔ یورپ کی طرح بے پردگی پر بھی یہ لوگ زور دے رہے ہیں لیکن یہ ہرگز پردہ کی اہمیت مناسب نہیں۔ یہی عورتوں کی آزادی فسق و فجر کی جڑ ہے۔ جن ممالک نے اس قسم کی آزادی کو روا رکھا ہے ذرا ان کی اخلاقی حالت کو اندازہ کرو۔ اگر اس کی آزادی اور بے پردگی سے ان کی عفت اور پاک دامنی بڑھ گئی ہے تو ہم مان لیں گے کہ ہم غلطی پر ہیں۔ لیکن یہ بات بہت ہی صاف ہے کہ جب مرد اور عورت جوان ہوں اور آزادی اور بے پردگی بھی ہو تو ان کے تعلقات کس قدر خطر ناک ہوں گے ۔ بد نظر ڈالنی اور نفس کے جذبات سے اکثر مغلوب ہو جانا انسان بد کا خاصہ ہے۔ پھر جس حالت میں کہ پردہ میں بے اعتدالیاں ہوتی ہیں اور فسق و فجور کے مرتکب ہو جاتے ہیں تو آزادی میں کیا کچھ نہ ہوگا ۔ مردوں کی حالت کا اندازہ کرو کہ وہ کس طرح بے لگام