ملفوظات (جلد 6) — Page 272
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۷۲ جلد ششم میں چند لمحہ اس پر سوئی تو مجھے یہ سزا ملی اور جو اس پر ہمیشہ ہوتے ہیں ان کو خدا معلوم کس قدر عذاب بھگتنا پڑے گا۔ پس غریبوں کو ہرگز بے دل نہ ہونا چاہیے۔ ان کا قدم آگے ہی ہے غربت ایک کیمیا ہے لیکن وہ کوشش کریں کرتھوڑی بہت جو کس ہے وہ کال دی ہیں کیونکہ بعض وقت ان لوگوں سے غریبی میں بھی بڑے بڑے گناہ صادر ہو جاتے ہیں ۔ صبر نہیں کرتے خدا کو گالیاں دینے لگ جاتے ہیں۔ معاش کی قلت ہو تو چوری، ڈاکہ اور دوسرے جرائم شروع کر دیتے ہیں۔ ایسی حالتوں میں صبر کرنا چاہیے اور خدا کی نافرمانی کی طرف ہرگز مائل نہ ہونا چاہیے۔ غربت اور کم رزقی در اصل انسان کو انسان بنانے کے لیے بڑی کیمیا ہے بشرطیکہ اس کے ساتھ اور قصور نہ ہوں ۔ جیسے مالداروں میں تکبر اور نخوت وغیرہ پیدا ہو کر ان کے اعمال کو تباہ کر دیتے ہیں ویسے ہی ان میں بے صبری موجب ہلاکت ہوتی ہے۔ اگر غریب لوگ صبر سے کام لیں تو ان کو وہ حاصل ہو جو اور لوگوں کو مجاہدہ سے حاصل نہیں ہو سکتا ۔ خدا نے اصل میں بڑا احسان کیا ہے کہ انبیاء کے ساتھ غریبی کا حصہ بھی رکھ دیا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بکریاں چرایا کرتے تھے۔ موسیٰ نے بکریاں چرائیں ۔ کیا امراء یہ کام کر سکتے ہیں؟ ہرگز نہیں۔ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا گذر ایک جنگل میں ہوا۔ وہاں کچھ پھل دار درخت تھے چند ایک صحابی جو کہ ہمراہ تھے وہ ان کا پھل توڑ کر کھانے لگے تو آپؐ نے فرمایا کہ فلاں درخت کا پھل کھاؤ بہت شیریں ہے۔ صحابہ نے پوچھا کہ یا حضرت آپ کو کیسے علم ہے۔ فرمایا کہ جب میں بکریاں چرایا کرتا تھا تو اس جنگل میں بھی آیا کرتا اور ان پھلوں کو کھایا کرتا تھا۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے یہ تجویز نہیں کیا کہ انبیاء شاہی خاندان سے ہوں ورنہ تکبر اور نخوت کا کچھ نہ کچھ حصہ ان میں ضرور رہ جاتا اور پھر نبوت کے بھی دو حصے کر دیئے۔ ایک مصائب اور شدائد کا اور دوسرا فتح و نصرت کا۔ انبیاء کی زندگی کے ان دو حصوں میں بھی الہی حکمت تھی۔ ایک تو یہی تھی کہ ان کے اخلاق میں ترقی ہو اور سچی بات یہی ہے کہ جوں جوں نبوت کا زمانہ گذرتا ہے اور واقعات اور حادثات کی صورت بدلتی جاتی ہے انبیاء کی اخلاقی حالت بھی