ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 271 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 271

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۷۱ اسی لیے اللہ تعالیٰ غربا کو بشارت دیتا ہے وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنْفُسِ وَالثَّمَرَاتِ وَبَشِّرِ الصَّبِرِينَ الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُمْ مُصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا الَيْهِ رَاجِعُونَ ( البقرة : ۱۵۶ ، ۱۵۷) اس کا یہی مطلب ہے کہ قضا و قدر کی طرف سے ان کو ہر ایک قسم کے نقصان پہنچتے ہیں اور پھر وہ جو صبر کرتے ہیں تو خدا تعالیٰ کی عنائتیں اور رحمتیں ان کے شامل حال ہوتی ہیں کیونکہ تلخ زندگی کا حصہ ان کو بہت ملتا ہے لیکن امراء کو یہ کہاں نصیب ۔ امیروں کا تو یہ حال ہے کہ پنکھا چل رہا ہے۔ آرام سے بیٹھے ہیں۔ خدمتگار چائے لایا ہے اگر اس میں ذرا سا قصور بھی ہے خواہ میٹھا ہی کم یا زیادہ ہے تو غصہ سے بھر جاتے ہیں۔ خدمتگار کو ناراض ہوتے ہیں ۔ بہت غصہ ہو تو مارنے لگ جاتے ہیں حالانکہ یہ مقام شکر کا ہے کہ ان کو ہل جو تنا نہیں پڑا۔ کاشتکاری کے مصائب برداشت نہیں کیے۔ چولہے کے آگے بیٹھ کر آگ کے سامنے تپش کی شدت برداشت نہیں کی اور پکی پکائی شئے محض خدا کے فضل سے سامنے آگئی ہے۔ چاہیے تو یہ تھا کہ خدا کے احسانوں کو یاد کر کے رطب اللسان ہوتے لیکن اس کے سارے احسانوں کو بھول کر ایک ذراسی بات پر سارا کیا کرایا رائیگاں کر دیتے ہیں حالانکہ جیسے وہ خدمتگار انسان ہے اور اس سے غلطی اور بھول ہو سکتی ہے ویسے ہی وہ (امیر ) بھی تو انسان ہے۔ اگر اس خدمتگار کی جگہ خود یہ کام کرتا ہوتا تو کیا یہ غلطی نہ کرتا۔ پھر اگر ما تحت آگے سے جواب دے تو اس کی اور شامت آتی ہے اور آقا کے دل میں رہ رہ کر جوش اٹھتا ہے کہ یہ ہمارے سامنے کیوں بولتا ہے اور اسی لیے وہ خدمتگار کی ذلت کے درپے ہوتا ہے۔ حالانکہ اس کا حق ہے کہ وہ اپنی غلطی کی تلافی کے لیے زبان کشائی کرے۔ اسی پر مجھے ایک بات یاد آئی ہے کہ سلطان محمود کی ( یا ہارون الرشید کی ) ایک کنیز تھی ۔ اس نے ایک دن بادشاہ کا بستر ا جو کیا تو اسے گد گدا اور ملائم اور پھولوں کی خوشبو سے بسا ہوا پا کر اس کے دل میں آیا کہ میں بھی لیٹ کر دیکھوں تو سہی اس میں کیا آرام حاصل ہوتا ہے۔ وہ لیٹی تو اسے نیند آ گئی ۔ جب بادشاہ آیا تو اسے سوتا پا کر ناراض ہوا اور تازیانہ کی سزادی۔ وہ کنیز روتی بھی جاتی اور ہستی بھی جاتی ۔ بادشاہ نے وجہ پوچھی تو اس نے کہا کہ روتی تو اس لیے ہوں کہ ضربوں سے درد ہوتی ہے اور ہستی اس لیے ہوں کہ