ملفوظات (جلد 6) — Page 269
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۶۹ لَوْمَةَ لايم (المائدة: ۵۵) کہ وہ کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں خوف کھاتے اور صرف اپنے مولا کی رضا مندی کو مقدم رکھتے ہیں ۔ مومن ایک لا پروا انسان ہوتا ہے۔ اسے صرف خدا کی رضا مندی کی حاجت ہوتی ہے اور اسی کی اطاعت کو وہ ہر دم مد نظر رکھتا ہے کیونکہ جب اس کا معاملہ خدا سے ہے تو پھر اسے کسی کے ضرر اور نفع کا کیا خوف ہے۔ جب انسان خدا تعالیٰ کے بالمقابل کسی دوسرے کے وجود کو دخل دیتا ہے تو ریا اور عُجب وغیرہ معاصی میں مبتلا ہوتا ہے۔ یا د رکھو کہ یہ دخل وہی ایک زہر ہے اور کلمہ لا اله الا اللہ کے اول جز لا الہ میں اس کی بھی نفی ہے کیونکہ جب انسان کسی انسان کی خاطر خدا کے ایک حکم کی بجا آوری سے قاصر رہتا ہے تو آخر اسے خدا کی کسی صفت میں شریک کرتا ہے تبھی تو قاصر رہتا ہے اس لیے لا الہ کہتے وقت اس قسم کے معبودوں کی بھی نفی کرتا ہے۔ صوفیوں نے اس قسم کے ملامتی لوگوں کے بہت سے قصے لکھے ہیں ۔ امام غزالی ( علیہ الرحمۃ ) نے بھی لکھا ہے کہ آجکل کے فقراء ریا کار ہوتے ہیں۔ تن کی آسانی کو مد نظر رکھ کر موٹے جھوٹے کپڑے تو پہنتے نہیں اس لیے باریک کپڑوں کو گیر و یا سبز رنگ لیتے ہیں اور ان کے بجتے پہن کر اپنے کو فقراء مشہور کرتے ہیں۔ مقصود ان کا یہ ہوتا ہے کہ لوگوں سے متمیز ہوں اور عوام الناس خصوصیت سے ان کی طرف دیکھیں۔ پھر روزہ داروں کا ذکر لکھا ہے کہ کوئی روزہ دار مولوی کسی کے ہاں جاوے اور اسے مقصود ہو کہ اپنے روزہ کا اظہار کرے تو مالک خانہ کے استفسار پر بجائے اس کے کہ سچ بولے کہ میں نے روزہ رکھا ہوا ہے اس کی نظروں میں بڑا نفس کش ثابت کرنے کے لیے جواب دیا کرتے ہیں کہ مجھے عذر ہے۔ غرضیکہ اس طرح کے بہت سے مخفی گناہ ہوتے ہیں جو اعمال کو تباہ کرتے رہتے ہیں۔ کبر اور نخوت امراء کو کب اور نخوت لگے رہتے ہیں جو کہ ان کے عملوں کو کھاتے رہتے ہیں۔ ان اور اس لیے بعض عرب اس لیے بعض غریب آدمی جن کو اس قسم کے خیالات نہیں ہوتے وہ سبقت لے جاتے ہیں ۔ غرضیکہ ریا وغیرہ کی مثال ایک چوہے کی ہے جو کہ اندر ہی اندر اعمال کو کھاتا رہتا ہے۔ خدا تعالیٰ