ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 268 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 268

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۶۸ بیٹھ کر آپ نے پیا اور بھی کئی دفعہ دیکھا گیا ہے کہ پانی وغیرہ آپ ہمیشہ بیٹھ کر ہی پیتے ہیں ۔ کے ۷ را گست ۱۹۰۴ء ( بمقام قادیان - بوقت شام ) شام کی نماز کے بعد چند ایک احباب نے بیعت کی ۔ ان صوفیا کا ملامتی فرقہ اور ریاء میں ایک صاحب ایسے تھے جو کہ اپنے زمانہ جہالت میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو سخت الفاظی سے یاد کرتے اور بہت ہی برا بھلا کہتے تھے۔ وہ اپنی ان خطاؤں کی معافی حضرت اقدس علیہ السلام سے طلب کرتے تھے۔ آپ فرماتے تھے کہ تو بہ کے بعد اللہ تعالیٰ سب گناہ بخش دیتا ہے۔ اس اثنا میں اس تائب کا دل اپنے گناہوں کو یاد کر کے بھر آیا اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگ گیا۔ روتا جا تا تھا اور گناہوں کی مغفرت کی دعا بھی کرتا جاتا تھا۔ اس کی اس حالت کو جناب حکیم نورالدین صاحب نے دیکھ کر عرض کی کہ ایسے ہی مذنب ہیں جن کے گناہ خدا بخش دیتا ہے۔ اس پر سلسلہ کلام چل پڑا اور حضرت اقدس نے ذیل کی تقریر شروع کی ۔ فرمایا کہ ذنوبی آدمی کو اسی لیے قرب بخشتے ہیں بشرطیکہ ساتھ تو بہ اور استغفار بھی ہو اور یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے خطا اور صغائر میں انبیاء کو بھی شریک کر دیا ہے تا کہ قرب الہی کے مراتب میں وہ ترقی کر سکیں ۔ فرقہ ملامتی کو میں پسند نہیں کرتا کیونکہ وہ خدا تعالیٰ کے مقابلہ پر غیر کے وجود کو بڑا خیال کرتے ہیں اور اپنے اعمالِ صالحہ کو پوشیدہ رکھ کر مخلوق کی نظروں میں متہم ( جائے تہمت ) ہونا چاہتے ہیں۔ یہ ان کی غلطی ہے۔ دوسرے وجود کو تو لاشے خیال کرنا چاہیے اور کسی کے ضرر اور نفع پر نظر ہر گز نہ رکھنی چاہیے۔ نہ کسی کی مدح سے پھولے اور دل میں خوش ہو اور نہ کسی کی ذم سے رنجیدہ خاطر ہو۔ سچے موحد وہی ہوتے ہیں جو خدا کے سوا کسی دوسرے وجود کو کوئی شے خیال نہیں کرتے اور یہی وجہ ہے کہ فرقہ ملامتی اس توحید سے گرا ہوا ہے۔ خدا تعالیٰ نے مومنوں کی صفت فرمائی ہے لا يَخَافُونَ البدر جلد ۳ نمبر ۲۹ مورخہ یکم اگست ۱۹۰۴ صفحه ۳، ۴