ملفوظات (جلد 6) — Page 266
ملفوظات حضرت مسیح موعود کا ان کو موقع ہی نہیں آتا ۔ ۲۶۶ فرمایا کہ وہ بھی ایک تلخی کا حصہ ہے کیونکہ معاش کے لیے کرتا ہے اس لیے عبادت کا ثواب پاتا ہے۔ نیک نیتی سے اگر انسان چلے اور نیت یہ ہو کہ بال بچوں کی پرورش اس لیے کرتا ہوں کہ وہ خادم دین ہوں تو اس پر بھی اسے ثواب ملتا ہے۔ نبی اور اجتہادی غلطی انبیاء کے دشمنوں کے دو گروہ ہوتے ہیں ایک وہ جو کہ ان کے مکتب ہوتے ہیں۔ دوسرے وہ جو ان کو خدا مانتے ہیں۔ اہلِ اسلام کا عقیدہ جو مسیح علیہ السلام کے دوبارہ آنے کا ہے وہ اسی قسم کا ہے کہ یہ لوگ ان کے مکتب تو نہیں ہیں لیکن ان کو خدا ضرور مانتے ہیں کہ ہر ایک اس کی صفت میں اسے شریک کیا ہوا ہے حالانکہ اصل بات یہ ہے کہ بعض وقت نبی کو اجتہاد اور تفہیم الہام میں غلطی ہو جاتی ہے ۔ یہ غلطی اگر احکام دین کے متعلق ہو تو ان کو فوراً متنبہ کیا جاتا ہے لیکن دوسرے امور میں ضروری نہیں کہ وہ اطلاع دیئے جاویں ۔ پس اس لیے یہ بات ممکن ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کو ان کے دوبارہ آنے کے بارے میں جو الہامات ہوئے خود انہوں نے بھی اسے حقیقی معنوں پر حمل کر لیا ہو کیونکہ ان کا مخطی ہونا تو ثابت ہے۔ اس لیے انجیلوں میں ان کا یہ فقرہ نقل ہوا ہوا معلوم ہوتا ہے کہ ابھی اس زمانہ کے لوگ زندہ ہوں گے کہ میں دوبارہ آجاؤں گا۔ اس قسم کی اجتہادی غلطی کا امکان ہر ایک نبی سے ہے۔ اب دیکھو کہ مسیح علیہ السلام سے تو ایک اجتہادی غلطی ہوئی لیکن دوسروں کو کسی قدر و بال آیا۔ اگر ان مسلمانوں کو یہ سمجھ ہوتی تو وہ دوسرے نبیوں سے ان کو کیوں زیادہ مرتبہ دیتے ۔ مسلمانوں پر یہ بات لازم نہیں ہے کہ وہ انجیل کے الفاظ پر ضرور اڑیں۔ مسیح علیہ السلام کو یہ خاص عزت دیں کہ وہ مخطی نہیں یہ تو اسلام سے خارج ہونا ہے۔ چند فقہی مسائل سفر گورداسپور میں نماز کے متعلق ذیل کے مسائل میری موجودگی میں حل ہوئے ۔ (ڈائری نویس ) (۱) ایک مقام پر دو جماعتیں نہ ہونی چاہئیں۔ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ حضرت اقدس ابھی وضو فرما