ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 265 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 265

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۶۵ جلد ششم دَعَانِ (البقرۃ: ۱۸۷) کے بھی یہی معنے ہیں کہ وہ جواب دیتا ہے گونگا نہیں ہے ۔ دوسرے تمام دلائل اس کے آگے بیچ ہیں ۔ کلام ایک ایسی شے ہے جو کہ دیدار کے قائم مقام ہے۔ عذاب اور فسق ایک تحصیلدار صاحب نے گورداسپور میں رض کی کہ تجربہ ہواہے کہ خاص طاعون کے دنوں میں فسق بڑھ جاتا ہے۔ چنانچہ ایک گھر میں پے در پے طاعون کی موتیں ہوتی رہیں اور اس کے ساتھ ہی دیوار به دیوار ایک شخص ایک ہفتہ زنا کاری میں مبتلا رہا۔ فرمایا کہ قرآن شریف سے بھی ایسا ثابت ہے جیسے کہ اَمرُنَا مُتْرَفِيهَا فَفَسَقُوا فِيهَا فَحَقَّ عَلَيْهَا الْقَوْلُ فَدَ مَرْنَهَا تَدْمِيرًا (بنی اسراءیل : ۱۷) یعنی جب اس قسم کے عذاب نازل ہوتے ہیں تو فاسقوں کو ڈھیل دی جاتی ہے کہ وہ جی بھر کر فسق کر لیں ۔ پھر ان کو ایک ہی دفعہ ہلاک کر دیا جاتا ہے۔ لذات دنیوی میں انہماک خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ کافروہ ہیں جو حیات دنیا پر راضی ہو گئے اور اطمینان پاگئے ہیں۔ خدا کی طرف حرکت کی ضرورت کو وہ بالکل محسوس ہی نہیں کرتے فَلَا نُقِيمُ لَهُمْ يَوْمَ الْقِيمَةِ وَزْنا (الكهف: ۱۰۶) میں گناہ کا ذکر نہیں ہے اس کا باعث صرف یہ ہے کہ ان لوگوں نے دنیا کی خواہشوں کو مقدم رکھا ہوا تھا۔ ایک اور جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ لوگ دنیا کا حظ پاچکے۔ وہاں بھی گناہ کا ذکر نہیں بلکہ دنیا کی لذات جن کو خدا تعالیٰ نے جائز کیا ہے ان میں منہمک ہو جانے کا ذکر ہے۔ اس قسم کے لوگوں کا مرتبہ عند اللہ کچھ نہ ہوگا اور نہ ان کو کوئی عزت کا مقام دیا جائے گا ۔ شیریں زندگی اصل میں ایک شیطان ہے جو کہ انسان کو دھوکا دیتی ہے۔ مومن تو خود مصیبت خریدتا ہے ۔ ورنہ اگر وہ مداہنہ برتے تو ہر طرح آرام سے رہ سکتا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اگر اس طرح کرتے تو اس قدر جنگیں کیوں ہوتیں لیکن آپ نے دین کو مقدم رکھا اس لیے سب دشمن ہو گئے ۔ حُسن نیت سوال ۔ ملازمت پیشہ لوگوں کو عبادت کا بڑا کم وقت ملتا ہے اور وہ دینی خدمات سے بھی محروم رہتے ہیں۔ بعض ایسے ہوتے ہیں کہ ان کی زندگی آرام میں گذرتی ہے۔ تلخ زندگی