ملفوظات (جلد 6) — Page 259
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۵۹ ۲۵ جولائی ۱۹۰۴ء ( بمقام گورداسپور ) تعظیم قبله سوال ہوا کہ اگر قبل شریف کی طرف پاؤں کر کے سو یا جاوے تو جائز ہے کہ نہیں؟ یم قبلہ فرمایا کہ یہ ناجائز ہے کیونکہ تنظیم کے برخلاف ہے۔ سائل نے عرض کی کہ احادیث میں اس کی ممانعت نہیں آئی ۔ فرمایا کہ یہ کوئی دلیل نہیں ہے۔ اگر کوئی شخص اسی بنا پر کہ حدیث میں ذکر نہیں ہے اور اس لیے قرآن شریف پر پاؤں رکھ کر کھڑا ہوا کرے تو کیا یہ جائز ہو جاوے گا ؟ ہر گز نہیں ۔ وَ مَنْ يُعَظِمُ شَعَائِرَ اللَّهِ فَإِنَّهَا مِنْ تَقْوَى الْقُلُوبِ (الحج : ۳۳) ۔ سکھ مذہب اور عیسائیت شام کو بعد ازنماز مغرب دونو جوان اکاؤنٹنٹ جنرل آفس لاہور کے کلارک جن میں سے ایک صاحب مسلمان تھے اور ایک عیسائی۔ حضرت کی ملاقات کے لیے تشریف لائے ، چونکہ مسلمان صاحب کا تعارف جناب مفتی محمد صادق صاحب سپرنٹنڈنٹ تعلیم الاسلام ہائی سکول قادیان سے تھا۔ اس لیے مفتی صاحب نے ان کو حضرت اقدس سے انٹروڈیوس کیا۔ مختصر حالات کے استفسار کے بعد حضور عیسائی نوجوان کی طرف متوجہ ہوئے ۔ معلوم ہوا کہ اول یہ سکھ مذہب کے تھے اور ان کے والد عیسائی تھے۔ اس پر حضرت اقدس نے فرمایا کہ آجکل اگر دنیا کے خدا گنے جاویں تو ایک ضمیمہ کتاب طیار ہوتی ہے، لیکن تعجب ہے کہ سکھ جیسے مذہب کو چھوڑ کر جس میں توحید کی تعلیم ہے آپ نے عیسائی مذہب کو کیسے پسند کیا۔ اس کے بعد متفرق طور پر مزاج پرسی وغیرہ ہوتی رہی۔ اور بر وقت رخصت حضور نے فرمایا کہ او ہمیں آپ کی ملاقات سے بہت خوشی ہوئی ہے۔ افسوس ہے کہ قیام بہت تھوڑا ہے۔ لے الحکم جلد ۸ نمبر ۲۶،۲۵ مورخه ۳۱ جولائی، ۱۰ راگست ۱۹۰۴ صفحه ۱۴