ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 258 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 258

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۵۸ پھر بھی یہی کہوں گا اور بطور نصیحت کہوں گا کہ راحت سے زندگی بسر کرو۔ آپ کا رئے بہت خراب ہے کوئی مہلک بیماری نہ ہو جاوے۔ ہاں ان لوگوں کے واسطے دعا کر چھوڑو کہ اللہ تعالیٰ ان کو ہدایت دیوے اور قرآن سمجھنے کی ہر ایک کو توفیق دیوے۔ مخلوق کے تم ٹھیکیدار نہیں ۔ اپنے آپ کو مشکلات میں نہ ڈالو اور نہ تمہارے قومی خدا تعالیٰ نے اس لائق بنائے ہیں۔ میں تو ہمیشہ آپ کو یہی کہوں گا اور یہی او نصیحت کروں گا۔ آئندہ آپ کو اختیار ہے۔ والسلام کے عرش کی حقیقت عرش کے متعلق سوال ہوا۔ آپ نے اپنی تقریر کے اس حصہ کا اعادہ فرمایا جو ہ بقت قبل قبل از میں کئی دفعہ شائع ہو چکی ہے۔ اور فرمایا کہ عرش کی نسبت مخلوق اور غیر مخلوق کا جھگڑا عبث ہے۔ احادیث سے اس کا جسم کہیں ثابت نہیں ہوتا ۔ ایک قسم کے علو کے مقام کا اظہار عرش کے لفظ سے کیا گیا ہے اگر اسے جسم کہو تو پھر خدا کو بھی مجسم کہنا چاہیے یا د رکھنا چاہیے کہ اس کو علو جسمانی نہیں کہ جس کا تعلق جہات سے ہو بلکہ یہ روحانی علو ہے۔ عرش کی نسبت مخلوق اور غیر مخلوق کی بحث بھی ایک بدعت ہے جو کہ پیچھے ایجاد کی گئی ۔ صحابہ نے اس کو مطلق نہیں چھیڑا تو اب یہ لوگ چھیڑ کر نا فہم لوگوں کو اپنے گلے ڈالتے ہیں۔ لیکن عرش کے اصل معنے اس وقت سمجھ میں آسکتے ہیں جبکہ خدا تعالیٰ کے دوسرے تمام صفات پر بھی ساتھ ہی نظر ہو۔ ہے ۲۱ جولائی ۱۹۰۴ء به قام گورداسپور ترک گناہ ایسی ہوا چلی ہے کہ گناہ کا چھوڑنا عیب خیال کرتے ہیں اور جب کوئی گناہ کوچھوڑنا چاہتا ہے تو اسے ایک حسرت ہوتی ہے کہ اب یہ ہاتھ سے گیا۔ اگر خدا کی عظمت کو مد نظر رکھ کر بھی گناہ کیا جاوے تو بھی اس کا بوجھ ہلکا ہو جاوے لیکن اس کا خیال کسے ہے۔ سے الحکم جلد ۸ نمبر ۲۳ ، ۲۴ مورخہ ۱۷، ۲۴ جولائی ۱۹۰۴ء صفحہ ۱۶ ے ، سے الحکم جلد ۸ نمبر ۲۶،۲۵ مورخه ۳۱ جولائی ، ۱۰ راگست ۱۹۰۴ صفحه ۱۴