ملفوظات (جلد 6) — Page 241
ملفوظات حضرت مسیح موعود ہے تو تین باتوں کی قسم کھائے ۔ ۲۴۱ ایک تو یہ کہ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنی میں سے مسیح کی وفات ہرگز ثابت نہیں ہوتی اور یہاں تو فیتنی کے وہ معنے ہرگز نہیں ہیں جو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت اس لفظ کے معنے کئے جاتے ہیں۔ دوسری یہ بات ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت مسیح کو معراج کی شب میں ان تمام انبیاء کی طرح نہیں دیکھا جو کہ وفات پاچکے ہیں بلکہ دوسرے انبیاء کی ارواح کے خلاف حضرت مسیح کو معراج کی شب میں اس ہیئت اور شکل میں پایا جس سے ان کا بجسد عنصری زندہ ہونا ثابت ہوتا ہے۔ تیسری یہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پر صحابہؓ کا اجماع جو آیت مَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ (ال عمران: ۱۴۵) کے ان معنوں پر ہوا تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پیشتر جس قدر نبی گزرے وہ سب فوت ہو چکے ہیں یہ بات غلط ہے کیونکہ ان تین باتوں میں اللہ تعالیٰ کا قول ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رؤیت اور صحابہ کا اجماع سب آ جاتا ہے۔ پس ان تین باتوں پر وہ قسم کھاوے۔ اور چوتھی بات یہ بھی ملالے کہ ہم مفتری ہیں اور ۲۴ سال سے جو الہامات ہم سنا رہے ہیں یہ خدا تعالیٰ پر افترا باندھتے ہیں ۔ اور قسم میں یہ بھی کہے کہ اگر اس میں میں نے کوئی بد نیتی کی ہے یا ایسی بات بیان کی ہے جو کہ میرے ذہن میں نہیں ہے تو اس کا وبال مجھ پر نازل ہو۔ فرمایا ۔ اگر یہ لوگ منہاج نبوت کو معیار ٹھہرا دیں تو آج فیصلہ ہوتا ہے۔ اس مقام پر نواب محمد علی خان صاحب نے عرض کی کہ ایک شخص نے مجھ سے حضور کے بارے میں بحث کرنی چاہی۔ میں نے اسے کہا کہ اول تم سب کتابیں حضرت مرزا صاحب کی مطالعہ کرو اگر اس میں سمجھ نہ آئے تو ایک ماہ قادیان چل کر رہو اور وہاں مرزا صاحب کے حالات وغیرہ کو آنکھ سے دیکھو ممکن ہے کہ اللہ تعالی تمہاری رہنمائی کرے۔ فرمایا کہ اگر ہمارا کوئی مرید بعض دفعہ موت ہی انسان کے حق میں اچھی ہوتی ہے ہوی ہے طاعون سے مر جاتا ہے