ملفوظات (جلد 6) — Page 240
ملفوظات حضرت مسیح موعود الد ۔ جلد تَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ وَ تَوَاصَوْا بِالْمَرْحَمَةِ (البلد : ۱۸ ) کہ وہ صبر اور رحم سے نصیحت کرتے ہیں۔ مرحمه یہی ہے کہ دوسرے کے عیب دیکھ کر اسے نصیحت کی جاوے اور اس کے لیے دعا بھی کی جاوے۔ دعا میں بڑی تاثیر ہے اور وہ شخص بہت ہی قابلِ افسوس ہے کہ ایک کے عیب کو بیان تو سو مرتبہ کرتا ہے لیکن دعا ایک مرتبہ بھی نہیں کرتا۔ عیب کسی کا اس وقت بیان کرنا چاہیے جب پہلے کم از کم چالیس دن اس کے لیے رو رو کر دعا کی ہو۔ سعدی نے کہا ہے۔ خدا داند بپوشد همسایه نداند و خروشد خدا تو جان کر پردہ پوشی کرتا ہے، مگر ہمسایہ کو علم نہیں ہوتا اور شور کرتا پھرتا ہے۔ خدا کا نام ستار ہے۔ تمہیں چاہیے کہ تَخَلَّقُوا بِأَخْلاقِ الله بنو۔ ہمارا یہ مطلب نہیں ہے کہ عیب کے حامی بنو بلکہ یہ کہ اشاعت اور غیبت نہ کرو کیونکہ کتاب اللہ میں جیسا آگیا ہے تو یہ گناہ ہے کہ اس کی اشاعت اور غیبت کی جاوے۔ شیخ سعدی کے دوشاگرد تھے۔ ایک ان میں سے حقائق و معارف بیان کیا کرتا تھا اور دوسرا جلا بھنا کرتا تھا۔ آخر پہلے نے سعدی سے بیان کیا کہ جب میں کچھ بیان کرتا ہوں تو دوسرا جلتا ہے اور حسد کرتا ہے ۔ شیخ نے جواب دیا کہ ایک نے راہ دوزخ کی اختیار کی کہ حسد کیا اور تو نے غیبت کی ۔ غرض یہ کہ سلسلہ چل نہیں سکتا جب تک رحم ، دعا، ستاری اور مرحمہ آپس میں نہ ہو۔ اے ۲۱ جون ۱۹۰۴ء منکر وفات مسیح سے قسم کن الفاظ میں لی جائے حضرت اقدس کے ایک خاص حواری نے عرض کی کہ وزیر آباد میں ایک حافظ صاحب ہیں ۔ وہ اس بات پر آمادہ ہیں کہ وہ قسم کھا کر کہیں کہ عیسی علیہ السلام اسی جسد عنصری کے ساتھ آسمان پر زندہ موجود ہیں ۔ اس پر حضرت اقدس نے فرمایا کہ جو شخص دلیری کر کے شوخی کی راہ سے فتنہ ڈالتا ہے خدا اس سے خود سمجھ لیتا ہے۔ اگر اس کو قسم کھانی ل البدر جلد ۳ نمبر ۲۶ مورخہ ۱۸ جولائی ۱۹۰۴ صفحه ۴ نیز الحکم جلد ۸ نمبر ۲۳ ، ۲۴ مورخہ ۱۷، ۲۴ جولائی ۱۹۰۴ء صفحہ ۱۰۰۹