ملفوظات (جلد 6) — Page 203
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۰۳ جلد ششم حلاوت پیدا ہو جائے ۔سب سے عمدہ دعا یہ ہے کہ خدا کی رضا مندی اور گناہوں سے نجات حاصل ہو کیونکہ گناہوں ہی سے دل سخت ہو جاتا اور انسان دنیا کا کیڑا بن جاتا ہے۔ ہماری دعا یہ ہونی چاہیے کہ خدا تعالیٰ ہم سے گناہوں کو جو دل کو سخت کر دیتے ہیں دور کر دے اور اپنی رضا مندی کی راہ دکھلائے ۔ دنیا میں مومن کی مثال اس سوار کی ہے کہ جو جنگل میں جا رہا ہے اور راہ میں بسبب گرمی اور تکان سفر کے ایک درخت کے نیچے سستانے کے لیے ٹھہر جاتا ہے لیکن ابھی گھوڑے پر سوار ہے اور کھڑا کھڑا گھوڑے پر ہی کچھ آرام لے کر آگے اپنے سفر کو جاری رکھتا ہے لیکن جو شخص اس جنگل میں گھر بنالے وہ ضرور درندوں کا شکار ہوگا ۔ مومن دنیا کو گھر نہیں بناتا اور جو ایسا نہیں خدا اس کی پروا نہیں کرتا نہ خدا کے نزدیک دنیا کو گھر بنانے والے کی عزت ہے۔ خدا مومن کی عزت کرتا ہے۔ نوافل کی حقیقت حدیث میں آیا ہے کہ مومن نوافل کے ساتھ خدا کا قرب حاصل کر لیتا ہے۔ نوافل سے مراد یہ ہے کہ خدمت مقرر کردہ میں زیادتی کی جاوے۔ ہر ایک خیر کے کام میں دنیا کا بندہ تھوڑا سا کر کے سست ہو جاتا ہے لیکن مومن زیادتی کرتا ہے۔ نوافل صرف نماز سے ہی مختص نہیں بلکہ ہر ایک حسنات میں زیادتی کرنا نوافل ادا کرنا ہے۔ مومن محض خدا کی خوشنودی کے لیے ان نوافل کی فکر میں لگا رہتا ہے۔ اس کے دل میں ایک درد ہے جو اسے بے چین کرتا ہے اور وہ دن بدن نوافل وحسنات میں ترقی کرتا جاتا ہے اور بالمقابل خدا بھی اس کے قریب ہوتا جاتا ہے حتی کہ مومن اپنی ذات کو فنا کر کے خدا کے سایہ تلے آتا جاتا ہے۔ اس کی آنکھ خدا کی آنکھ، اس کے کان خدا کے کان ہو جاتے ہیں کیونکہ وہ کسی معاملہ میں خدا کی مخالفت نہیں کرتا۔ ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ اس کی زبان خدا کی زبان اور اس کا ہاتھ خدا کا ہاتھ ہو جاتا ہے۔ پھر خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ مجھے کسی بات میں اس قدر تر ڈ نہیں ہوتا جس قدر مومن مومن کا مقام کی جان نکالنے میں تر ہوتا ہے۔ یوں تو خدا کی ذات سب ترددات سے پاک ہے لیکن یہ فقرہ جو فرمایا تو مومن کے اکرام کے لیے فرمایا ۔ اب دوسرے لوگ کیڑے مکوڑوں کی طرح مر جاتے ہیں لیکن مومن کا معاملہ دگرگوں ہے۔ مجھے یہ سمجھ آتی ہے کہ جو صلحاء اور انبیاء کی