ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 157 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 157

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۵۷ جلد ندر شکایت کرتا ہے یہ تو تیرا اپنا ہی قصور اور نادانی ہے۔ ہر ایک آمر کے لیے ایک قانون قدرت اور وقت ہے خواہ وہ امر دینی ہو یا دنیوی۔ پھر دنیوی امور میں تو ان قوانین قدرتیہ کو نگاہ رکھتا ہے لیکن دینی امور میں آکر عقل ماری جاتی ہے اور جلدی کر کے ایک دم میں سب کچھ چاہتا ہے یہ جلد باز اور شتاب کار لوگ جب خدا تعالیٰ کے ماموروں کے پاس جاتے ہیں تو وہاں بھی اس شتاب کاری سے کام لیتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ وہ ایک پھونک مار کر ان کو آسمان پر چڑھا دے۔ ایسے نشان مانگتے ہیں کہ ایمان ایمان ہی نہ رہے اگر کوئی شخص چاند یا سورج پر ایمان لاوے تو بتاؤ اس کو اس ایمان سے کیا فائدہ اور ثواب ہوگا۔ ایمان تو یہ ہوتا ہے کہ من وجہ محجوب ہو اور من وجہ منکشف اگر ایمان کی حد سے بڑھ کر ہوتا تو پھر ثواب ہی نہ ملتا ثواب کا وعدہ اسی صورت میں ہے کہ عقلمند آدمی عقل صحیح سے کام لے کر قرائن قویہ کو پا کر سمجھ لیتا ہے کہ یہ حق ہے لیکن اگر اس طریق کو چھوڑتا ہے تو وہ پھر کسی ثواب کا مستحق نہیں ہو سکتا کیونکہ اگر ایسا ہی حجاب اٹھ جاوے کہ آفتاب کی طرح ایک شے روشن ہو جاوے تو کون احمق ہوگا جو کہے کہ اب آفتاب نہیں اور دن چڑھا ہوا نہیں ہے اگر ایسا انکشاف ہو تو پھر کافر اور مومن میں کیا فرق ہوا۔ مومن تو کہتے ہی اس کو ہیں جو من وجہ محجوب پر ایمان لے آتا ہے۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اسی بات پر صدیق کہلائے۔ پس قانونِ قدرت یہی ہے جو شخص جلد بازی کرتا ہے اور صبر اور استقلال کے ساتھ کوشش نہیں کرتا اور حسن ظن سے کام نہیں لیتا وہ ہمارا کیا بگاڑے گا اپنی ہی شقاوت کا نشانہ ہوگا۔ اس لئے ایسی ہی مثال ہے کہ ایک بیمار کسی طبیب کے پاس آوے اور طبیب اس کی مرض کی تشخیص کر کے کہے کہ تجھے دو مہینے تک میرے پاس رہ کر علاج کرنا پڑے گا مگر وہ کہے کہ نہیں دو مہینے تک تو میں رہ نہیں سکتا تم ابھی کوئی قطرہ ایسا دو کہ یہ ساری مرض جاتی رہے۔ ایسا جلد باز مریض کیا خاک فائدہ اٹھائے گا وہ تو اپنا ہی نقصان کرے گا اس کے لیے قانون قدرت تو بدل نہیں جاوے گاؤ کن تَجِدَ لِسُنَّةِ اللَّهِ تَبْدِيلًا ( الفتح : ۲۴) پس یہ بڑی بدبختی ہے کہ دنیا کے کاموں میں عقل سے کام لیتا ہے لیکن دین کے کاموں میں عقل کو بیکار اور معطل کر دیتا ہے۔ یہ خطرناک مرض ہے اس کا علاج یہی ہے کہ کثرت سے استغفار کرتا رہے۔