ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 156 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 156

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۵۶ جلد کرتا ان کی خوشامد کرتا اور جائز و نا جائز وسائل کے استعمال سے بھی نہیں چوکتا ۔ جب ایک تھوڑی سی متاع کے لیے وہ اس قدر جد و جہد اور کوشش کرتا ہے پھر اسے شرم کرنی چاہیے کہ دین کے لیے اس کا دسواں حصہ بھی سعی نہیں کرتا اور چاہتا ہے کہ اسرار دین اس پر کھل جاویں اور وہ دم زدن میں ولی بن جاوے۔ چند منٹ کے لیے ایک شخص ہماری مجلس میں آکر بیٹھتا ہے اور باہر نکل کر فتوی دیتا ہے کہ میں نے سب کچھ سمجھ لیا ہے یہ سب کچھ دکانداری ہے ہم ایسے فتووں اور ایسی راؤں کی کیا پروا کریں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی وحی اور الہام کے مقابلہ میں جو روشن نشانوں اور دلائل کے ساتھ ہو رہا ہے ایسی بے سر و پاراؤں اور فتووں کی کیا وقعت ہو سکتی ہے مگر ایسی رائے دینے والوں کو مرنے کے بعد پتا لگ جاوے گا کہ ان کے فتووں کی کیا حقیقت ہے؟ اس وقت سارے پر دے اور حجاب اٹھ جاویں گے اور حقیقت کھل جاوے گی۔ میں دنیا کی حالت پر سخت تعجب اور افسوس کرتا ہوں کہ اگر کسی کو کہہ دیا جاوے کہ تجھے جذام کا اندیشہ ہے تو وہ طبیب تلاش کرتا ہے اور نسخے پرنسخہ استعمال کرتا چلا جاتا ہے لیکن میں دیکھتا ہوں کہ دنیا کی بیماری کے لیے تو یہ جدو جہد کی جاتی ہے پر اس کے مقابلہ میں دین کے لیے کوئی فکر اور کوشش نہیں کی جاتی ۔ جوئندہ یا بندہ ایک عام مثل ہے مگر اس کے لیے یہ بھی تو ضروری ہے کہ جو سچی تلاش اور طلب کا حق ہے وہ ادا کرے۔ یہ تو نہیں کہ ایک شخص آتا ہے اور پوچھتا ہے کہ مجھے کوئی نشان دکھا دو میں شام کو واپس جانا چاہتا ہوں ایسی جلد بازی اور اقتراح خدا کو پسند نہیں ہے۔ دیکھو زمیندار کس قدر محنت کرتا ہے راتوں کو اٹھ اٹھ کر سخت سے سخت زمین میں ہل چلاتا ہے پھر تخم ریزی کرتا ہے آبپاشی کرتا ہے اور حفاظت کرتا ہے تب جا کر کہیں پھل اٹھاتا ہے۔ یہ کوشش اور محنت دنیا کے لیے تو ہے جو آج ہے کل نہ ہو گی مگر دین کے لیے کچھ بھی نہیں۔ چونکہ نفس میں خباثت ہوتی ہے اور تلاش حق مطلوب نہیں ہوتی اس لیے جلد فیصلہ کر لیتا ہے کہ میں نے سمجھ لیا ہے۔ یہ بے انصافی اور ظلم نہیں تو کیا ہے؟ مگر یہ سچ ہے وَمَا ظَلَمُونَا وَ لكِنْ كَانُوا أَنْفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ (البقرة: ۵۸) ایک شخص جو کنواں کھودنے لگا ہے وہ اگر دو چار ہاتھ کھود کر شکایت کرے کہ پانی نہیں نکلا تو کیا اس کو احمق نہ کہا جاوے گا اور ملامت نہ ہوگی کہ ابھی تو اس حد تک پہنچا تو ہے ہی نہیں جہاں پانی نکلتا ہے ابھی سے