ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 146 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 146

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۴۶ ۲۰ را پریل ۱۹۰۴ء شام کے وقت حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے جلوس فرمایا تو الہامات ذیل بیان کئے ۔ الہامات - أَنْتَ مِنِّي بِمَنْزِلَةٍ لَّا يَعْلَمُهَا الْخَلْقُ - أَنْتَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ عَرْشِي - عرش عرش پر آپ نے فرمایا کہ یہ لفظ اس لیے بیان کیا گیا ہے کہ دا تعالیٰ کی تجلیات جمالی جلالی عرس کا کا اتم مظہر عرش ہے اور مسیح موعود اتم مظہر صفات جمالیہ کا ہے جو کہ اس وقت ظاہر ہو رہی ہیں ۔ اور اس لیے کل انبیاء کے ناموں سے مجھے خطاب کیا گیا ہے تا کہ ان کے کل صفات کا مظہر تام میں ہو جاؤں ۔ خدا تعالیٰ کی صفات محی و ممیت برابر کام میں زور سے لگے ہوئے ہیں ایک طرف تو لوگ زندہ ہو رہے ہیں اور ایک طرف مر رہے ہیں ۔ پس چونکہ ان ایام میں خدا کی صفات اپنی پوری تجلی سے کام کر رہی ہیں اس مناسبت کے لحاظ سے عرش کہا گیا ہے۔ عرش کے مخلوق اور غیر مخلوق ہونے کے بارے میں آپ نے فرمایا کہ او عرش ایسی شے ہے کہ نہ وہ مخلوق ہے اور نہ غیر مخلوق بلکہ خدا تعالیٰ کی تجلیات کا اعلیٰ مقام جو دونوں جہانوں میں ہو سکتا ہے وہ عرش کا مقام ہے۔ جو مخلوق کہتے ہیں وہ بھی غلطی پر ہیں اور جو غیر مخلوق قرار دیتے ہیں وہ بھی غلطی پر ہیں جو اس کو بذات خود تسلیم کرتے ہیں لیکن ہمارا یہ مذہب نہیں ہے کیونکہ اگر مخلوق کہا جاوے تو پھر محدود اور مجسم ہوگا ۔ اگر غیر مخلوق ہو تو خدا کی خالقیت سے باہر رہتا ہے حالانکہ خدا تعالیٰ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ ہے پس جیسے میرے الہامات ہیں اُخْطِ وَ أَصُومُ اور أُفْطِرُ وَأَصُومُ وغیرہ کلام الہی بطور استعارہ کے آئے ہیں ویسے ہی یہ بھی ایک استعارہ ہے اور قرآن شریف سے ثابت ہے کہ کلام الہی میں استعارات ہوا کرتے ہیں پھر کیوں نہ کہا جاوے کہ ہم اس پر ایمان لاتے ہیں اور اس کی کنہ کو حوالہ بخدا کرتے ہیں۔ میرا یہی عقیدہ ہے کہ عرش اصل میں مخلوق اور غیر مخلوق کی بحث سے باہر ہے اور اعلیٰ درجہ کی ایک تجلتی ہے۔ لے یہ اصيب ہے غلطی سے اصوم لکھا گیا ہے ۔ (مرتب)