ملفوظات (جلد 6)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 145 of 445

ملفوظات (جلد 6) — Page 145

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۴۵ جلد ششم یہ لفظ پیارا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اندرونی پاکیزگی پر دلیل ہے وہ ہمارے وہم و گمان سے بھی پرے ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ عاشقِ رضا ہیں اور اس میں بڑی بلند پروازی کے ساتھ ترقیات کر رہے ہیں جب اللہ تعالیٰ کے احسانات کا تصور کرتے ہیں اور اظہار شکر سے قاصر پا کر تدارک کرتے ہیں۔ یہ کیفیت ہم کس طرح ان عقل کے اندھوں اور مجذوم القلب لوگوں کو سمجھائیں ان پر وارد ہو تو وہ سمجھیں ۔ جب ایسی حالت ہوتی ہے احسانات الہیہ کی کثرت آکر اپنا غلبہ کرتی ہے تو روح محبت سے پر ہو جاتی ہے اور وہ اچھل اچھل کر استغفار کے ذریعہ ا۔ کے ذریعہ اپنے قصور شکر کا تدارک کرتی ہے۔ یہ لوگ خشک منطق کی طرح اتنا ہی نہیں چاہتے کہ وہ قومی جن سے کوئی کمزوری یا غفلت صادر ہو سکتی ہے وہ ظاہر نہ ہوں ۔ نہیں وہ ان قومی پر تو فتح حاصل کئے ہوئے ہو۔ ہوئے ہوتے ہیں وہ تو اللہ تعالیٰ کے احسانات کا تصور کر کے استغفار کرتے ہیں کہ شکر نہیں کر سکتے ۔ یہ ایک لطیف اور اعلیٰ مقام ہے جس کی حقیقت سے دوسرے لوگ نا آشنا ہیں اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسے حیوانات گدھے وغیرہ انسانیت کی حقیقت سے بے خبر اور نا واقف ہیں۔ اسی طرح پر انبیاء ورسل کے تعلقات اور ان کے مقام کی حقیقت سے دوسرے لوگ کیا اطلاع رکھ سکتے ہیں ۔ یہ بڑے ہی لطیف ہوتے ہیں اور جس جس قدر محبت ذاتی بڑھ جاتی ہے اسی قدر یہ اور بھی لطیف ہوتے جاتے ہیں دیکھو حضرت یوسف نے صرف یہی کہا تھا کہ تم بادشاہ سے میرا ذکر بھی کرنا صرف اتنی بات پر ایک عرصہ تک زندان میں رہنا پڑا حالانکہ عام نظر میں یہ ایک معمولی سی بات ہو سکتی ہے مگر نہیں ان تعلقات محبت کے منافی تھی۔ غرض یہ ایک لطیف سر ہے جس پر ہر ایک مطلع نہیں ہو سکتا۔ یہی ایک مقام ہے جس کی طلب ہر ایک کو کرنی چاہیے۔ بر کریماں کا رہا دشوار نیست لے الحکم جلد ۸ نمبر ۱۴ ، ۱۵ مورخه ۳۰ را پریل، ۱۰ رمتی ۱۹۰۴ صفحه ۲،۱