ملفوظات (جلد 6) — Page 107
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۰۷ جائز کہا ہے لیکن میرا مذہب تو یہی ہے سورہ فاتحہ ضرور امام کے پیچھے پڑھ لے۔ لے ۲۸ فروری ۱۹۰۴ء (بوقت ظهر) تدبیر اور توکل تدبیر اور توکل پر ضور علیہ الصلوۃ واسلام نے ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ وفي السَّمَاءِ رِزْقُكُمْ وَمَا تُوعَدُونَ (اللریت: ۲۳) سے ایک نادان دھوکا کھاتا ہے اور تدابیر کے سلسلہ کو باطل کرتا ہے حالانکہ سورۃ جمعہ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ فَانْتَشِرُوا فِي الْأَرْضِ وَابْتَغُوا مِنْ فَضْلِ اللهِ ( الجمعة : ۱۱) کہ تم زمین میں منتشر ہو جاؤ اور خدا کے فضل کی تلاش کر و ۔ یہ ایک بہت ہی نازک معاملہ ہے کہ ایک طرف تدابیر کی رعایت ہو اور دوسری طرف تو گل بھی پورا ہو۔ اور اس کے اندر شیطان کو وساوس کا بڑا موقع ملتا ہے ( بعض لوگ ٹھوکر کھا کر اسباب پرست ہو جاتے ہیں اور بعض خدا تعالیٰ کے عطا کردہ قومی کو بیکار محض خیال کرنے لگ جاتے ہیں ) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب جنگ کو جاتے تو طیاری کرتے ۔ گھوڑے ، ہتھیار بھی ساتھ لیتے بلکہ آپ بعض اوقات دو دوزرہ پہن کر جاتے ۔ تلوار بھی کمر سے لڑکاتے حالانکہ ادھر خدا تعالیٰ نے وعدہ فرمایا تھا وَ اللهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ (المائدة: ۲۸) بلکہ ایک دفعہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے تجویز فرمایا کہ اگر شکست ہو تو آپ کو جلد مدینہ پہنچا دیا جاوے۔ اصل بات یہ ہے کہ قوی الایمان کی نظر استغناء الہی پر ہوتی ہے اور اسے خوف ہوتا ہے کہ خدا کے وعدوں میں کوئی ایسی مخفی شرط نہ ہو جس کا اسے علم نہ ہو ۔ جو لوگ تدابیر کے سلسلہ کو بالکل باطل ٹھہراتے ہیں ان میں ایک زہریلا مادہ ہوتا ہے ان کا خیال یہ ہوتا ہے کہ اگر بلا آوے تو دیدہ دانستہ اس کے آگے جا پڑیں اور جس قدر پیشہ والے اور اہلِ حرفت ہیں وہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جاویں۔ بعض فقہی مسائل ایک شخص نے چند مسائل دریافت کئے وہ اور ان کے جواب جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دیئے ان کو ہم ذیل میں درج کرتے ہیں۔ (ایڈیٹر البدر ) البدر جلد ۳ نمبر ۱۱ مورخه ۱۶ / مارچ ۱۹۰۴ ء صفحه ۵