ملفوظات (جلد 6) — Page 106
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۰۶ سوال ۔ مردوں کو کن کن باتوں کا ثواب پہنچتا ہے۔ جواب ۔ حدیث سے ثابت ہے کہ طعام کا ثواب اور دعا کا بھی پہنچتا ہے قرآن شریف کی تلاوت کی نسبت میری نظر سے نہیں گذرا۔ ہاں جو قرآن شریف پر عامل ہو گا اس کی دعا ز یادہ قبول ہوگی ۔ سوال ۔ مردہ کا ختم وغیرہ جو کرایا جاتا ہے یہ جائز ہے کہ نا جائز ۔ جواب۔ اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے صرف دعا اور صدقہ میت کو پہنچتی ہے مومن کو چاہیے کہ نماز پنجگانہ ادا کرے اور رکوع سجود میں میت کے لئے دعا کرے یہ طریق نہیں ہے کہ الگ کلام پڑھ کر بخشے ۔ اب دیکھو لغت کا کلام منقول چلا آتا ہے کسی کا حق نہیں ہے کہ اپنی طرف سے معنے گھڑ لے ایسے ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے جو امر ثابت ہو اس پر عمل کرنا چاہیے نہ کہ اپنی من گھڑت پر ۔ سوال ۔ السلام علیکم یا اہل القبور جو کہا جاتا ہے کیا مردے سنتے ہیں۔ جواب ۔ دیکھو وہ سلام کا جواب وعلیکم السلام تو نہیں دیتے ۔ خدا تعالیٰ وہ سلام ( جو ایک دعا ہے ) ان کو پہنچا دیتا ہے۔ اب ہم جو آواز سنتے ہیں اس میں ہوا ایک واسطہ ہے۔ لیکن یہ واسطہ مردہ اور تمہارے درمیان نہیں لیکن السلام علیکم میں خدا تعالیٰ ملائکہ کو واسطہ بنا دیتا ہے اسی طرح درود شریف ہے کہ ملائکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچا دیتے ہیں۔ سوال ختم کی ریوڑیاں وغیرہ لے کر کھانی چاہئیں کہ نہ۔ جواب ۔ ختم کا دستور بدعت ہے شرک نہیں ہے اس لئے کھا لینی جائز ہے لیکن ختم دینا دلوانا نا جائز ہے اور اگر کسی پیر کو حاضر ناظر جان کر اس کا کھانا دیا جاتا ہے وہ نا جائز ۔ سوال ۔ یہ جو لکھا ہے کہ مدینہ جا کر شیخ عبدالقادر نے يَا حَبِيبَ اللهِ خُذْ بِيَدِی کہا۔ جواب ۔ اول تو اس کی سند کیا پھر بعض وقت اہل اللہ کو مکاشفہ ہوتا ہے اس میں خدا تعالیٰ اہل قبور سے باتیں کر دیتا ہے مگر یہ خدا کا فضل ہوتا ہے۔ سوال ۔ اگر امام کے پیچھے سورہ فاتحہ نہ پڑھی جاوے تو جائز ہے کہ نہیں۔ جواب ۔ حدیث شریف میں اس کی بہت تاکید ہے بلکہ لکھا ہے کہ اس کے بغیر نماز ہی نہیں اگر جہری نماز ہے تو امام کے اوقاف میں پڑھ لیوے اور خفی ہے تو پیچھے پڑھ سکتا ہے اگر چہ نہ پڑھنے کو بھی