ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 1 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 1

ملفوظات حضرت مسیح موعود 1 جلد پنجم بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ وَعَلَى عَبْدِهِ الْمَسِيحِ الْمَوْعُودِ ملفوظات حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ۲ را پریل ۱۹۰۳ء (دربار شام) فرمایا۔ اللہ تعالیٰ کا ہمارے ساتھ بھی عجیب معاملہ ہے۔ ہمارا یہ الہام ایک الہام کے معنی کہ آنت مینی بِمَنْزِلَةِ تَوْحِيدِي وَتَفْرِيدِی ایک نئی طرز کا الہام ہے۔ ہم نے اب سے پہلے کسی الہامی عبارت میں اس قسم کے الفاظ نہیں دیکھے اس کے معنے جو ہمارے خیال میں آتے ہیں یہ ہیں کہ ایسا شخص بمنزلہ توحید ہی ہوتا ہے جو ایسے وقت میں مامور ہو کہ جب دنیا میں توحید الہی کی نہایت ہتک کی گئی ہو اور اسے نہایت ہی حقارت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہو۔ کے ایسے وقت میں آنے والا توحید مجسم کے ہوتا ہے ہر شخص اپنا ایک مقصد اور غایت مقرر کرتا ہے مگر اس شخص ل البدر میں مزید یہ فقرہ ہے ۔ اور شرک کی عظمت اور قدر کی جاتی ہو۔“ البدر جلد ۲ نمبر ۱۲ مورخه ۱۰ را پریل ۱۹۰۳ ء صفحه ۹۱) ے البدر میں یہ مضمون یوں ہے۔ اس شخص مامور شدہ کو توحید کی پیاس ایسی لگائی جاتی ہے کہ وہ تمام اپنے اغراض اور مقاصد کو ایک طرف رکھ کر توحید کے قائم کرنے میں خود ایک مجسم توحید ہو جاتا ہے اس کے اُٹھنے بیٹھنے اور حرکت اور سکون اور ہر ایک قول و فعل میں توحید کی کو اسے لگی ہوئی ہوتی ہے۔“ (البدر جلد ۲ نمبر ۱۲ مورخه ۱۰ را پریل ۱۹۰۳ء صفحه ۹۱)