ملفوظات (جلد 5) — Page 2
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲ جلد پنجم کا مقصود و مطلوب اللہ تعالیٰ کی توحید ہی ہوتی ہے وہ اللہ تعالیٰ کی توحید کو اپنے طبعی جذبات اور مقاصد سے بھی مقدم کر لیتا ہے۔ اپنی ساری ضرورتوں کو پیچھے ڈال دیتا ہے۔ اسی طرح پر ہر ایک شخص کا اپنے مقاصد کا ایک بت ہوتا ہے اور وہ اس تک پہنچنا چاہتا ہے مگر یہ اللہ تعالیٰ ہی کے اختیار میں ہوتا ہے کہ اس تک پہنچا دے یا اس کی عمر کا پہلے ہی خاتمہ کر دے۔ وہ اپنے مال یا عزت و آبرو، بال بچوں یا دوسری حوائج کے لیے تڑپتا ہے اور بے خود ہوتا ہے اور بسا اوقات لوگ انہیں مشکلات میں پڑ کر خودکشی بھی کر لیتے ہیں مگر وہ شخص جو خدا کی طرف سے مامور ہو کر آتا ہے اس کا یہی جوش خدا تعالیٰ کی توحید کے لئے ہو جاتا ہے اور اپنی نفسانی خواہشوں کی بجائے خدا تعالیٰ کی توحید کے لیے مضطرب اور بے خود ہوتا ہے۔ لے میں سمجھتا ہوں کہ ایسے وقت میں یہ الفاظ خدا تعالیٰ کی طرف سے آتے ہیں کہ انتَ مِنّى بِمَنْزِلَةِ تَوْحِيدِي وَتَفْرِيدِی کیونکہ اللہ تعالیٰ کو اپنی توحید بہت ہی پیاری ہے۔ یہ تو حید تھی جس کے واسطے اللہ تعالیٰ نے کبھی و با کبھی قحط اور کبھی اپنے پیارے انبیاء علیہم السلام کے ہاتھ کی تلوار سے اس کے قیام کے واسطے ہزاروں مشرک جانوں کو تباہ کر دیا۔ مکہ و مدینہ منورہ کے حالات بھی صرف اسی کی خاطر پیچیدہ ہوئے تھے۔ موسیٰ علیہ السلام کا معاملہ بھی اسی توحید کے لیے تھا۔ کے عقیدہ ہی سے اعمال میں قوت آتی ہے جیسا قوی اور کامل عقیدہ ہو ویسے ہی عقیدہ کی اہمیت اس کے مطابق اعمال صادر ہوں گے۔ اگر عقیدہ ہی زنگ آلودہ اور کمزور اور مردہ ہو گا تو پھر اعمال کی کیا توقع ہو سکتی ہے۔ اگر چہ ظاہر اعمال نماز روزہ میں تو تمام مسلمان باہم مشترک ہیں اور اکثر بجالاتے ہیں ۔ ل البدر سے ۔ ” کہ خدا کی خواہشات اس کی توحید اور عظمت اور جلال غالب آئیں ۔ - البدر جلد ۲ نمبر ۱۲ مورخه ۱۰ را پریل ۱۹۰۳ء صفحه ۹۱) ے البدر سے ۔ طاعون وغیرہ قحط اور دیگر بلاؤں سے ملک کے ملک ہلاک ہوئے تو آخر توحید پیاری تھی تو یہ ہوا۔“ البدر جلد ۲ نمبر ۱۲ مورخه ۱۰ را پریل ۱۹۰۳ء صفحه ۹۱)