ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 73 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 73

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۷۳ جلد پنجم احیاء موتی کے بارے میں سوال ہونے پر فرمایا کہ احیاء موتی اس میں ہمارا یہ عقیدہ نہیں کہ اعجاز طور بھی احیاء موتی نہیں ہوتا بلکہ یہ عقیدہ ہے کہ وہ شخص دوبارہ دنیا کی طرف رجوع نہیں کرتا۔ مبارک احمد کی حیات اعجازی ہے۔ اس میں کوئی بحث نہیں کہ جس شخص کی باقاعدہ طور پر فرشتہ جان قبض کرلے اور زمین میں دفن بھی کیا جاوے وہ پھر کبھی زندہ نہیں ہوتا۔ شیخ سعدی نے خوب کہا ہے۔ واه که گر مرده باز گر دیدے درمیاں قبیلہ و پیوند رد میراث سخت تر بودے وارشان را از مرگ خویشاوند برود خدا تعالیٰ نے بھی فرما یا فيُمْسِكُ التِي قَضَى عَلَيْهَا الْمَوْتَ ( الزمر : ۴۳) کشف کیا ہے اسی بیداری کے ساتھ کسی اور عالم کا تداخل ہو جاتا ہے۔ اس حقیقت کشف میں حواس کے معطل ہونے کی ضرورت نہیں۔ دنیا کی بیداری بھی ہوتی اور ایک عالم غیبو بیت بھی ہوتا ہے یعنی حالت بیداری ہوتی اور اسرار غیبی بھی نظر آتے۔ قتل انبیاء پر سوال ہونے پر فرمایا۔ قبل انبیاء توریت میں لکھاہےکہ جھوٹا نی قتل کیاجائے گا۔ اس کا فیصلہ یہ ہےکہ اگر قرآن کی نص صریح سے پایا جاوے یا حدیث کے تواتر سے ثابت ہو کہ نبی قتل ہوتے رہے ہیں تو پھر ہم کو اس سے انکار نہیں کرنا پڑے گا۔ بہر حال یہ کچھ ایسی بات نہیں کہ نبی کی شان میں خلل انداز ہو کیونکہ قتل بھی شہادت ہوتی ہے مگر ہاں نا کام مقتل ہو جانا انبیاء کی علامات میں سے نہیں ۔ یہ مصالح پر موقوف ہے کہ ایک شخص کے قتل سے فتنہ برپا ہوتا ہے تو مصلحتِ الہی نہیں چاہتی کہ اس کو قتل کرا کر فتنہ برپا کیا جاوے۔ جس کے قتل سے ایسا اندیشہ نہ ہو اس میں حرج نہیں۔ پھر فرمایا ۔ جو کچھ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں بیان فرمایا ہے حدیث قرآن سے باہر نہیں وہی کچھ حدیث میں ۔ ہاں بعض کے باتوں کا استنباط ایسا اعلیٰ ل البدر میں یہ عبارت یوں ہے۔ ”ہاں یہ بات ہے کہ بعض لوگوں کو اس بات کا علم نہیں ہوتا کہ آنحضرت نے فلاں بات