ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 47 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 47

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۴۷ جلد پنجم کا یہی دین اور ایمان ہے تو خدا دنیا پر رحم کرے اور لوگوں کو ایسے ایمان سے نجات دیوے۔ ایمان کی نشانی ہی کیا ہے اور اس کے معنے کیا ہیں یہی کہ مان لینا اور پھر اس پر یقین آجانا۔ ایمان جب انسان ایک بات کو سچے دل سے مان لیتا ہے تو اس کا اس پر یقین ہوجاتا ہے اور کے مطابق اس سے اعمال بھی سرزد ہوتے ہیں ۔ مثلاً ایک شخص جانتا ہے کہ سنکھیا زہر ہوتا ہے اور اس کے کھانے سے انسان مر جاتا ہے یا ایک سانپ جان کا ہ دشمن ہوتا ہے جس کو کاٹتا ہے اس کی جان کے لالے پڑ جاتے ہیں تو اس ایمان کے بعد نہ تو وہ سنکھیا کھا تا اور نہ ہی سانپ کی سوراخ میں انگلی ڈالتا۔ اسی کی آج کل طاعون کے متعلق لوگوں کو ایمان ہے کہ اس کی لاگ سے انسان ہلاک ہو جاتا ہے۔ اسی واسطے جس مکان میں طاعون ہو اُس سے کوسوں بھاگتے ہیں اور چھوڑ جاتے ہیں غرض جس چیز پر ایمان کامل ہوتا ہے اس کے مطابق اس سے عمل بھی صادر ہوا کرتے ہیں ۔ مگر کیا وجہ ہے کہ خدا موجود ہونے کا تو ایمان ہو اور جزا سزا کے دن کا ایمان ہو اور حساب کتاب یاد ہو تو پھر گناہ باقی رہ جاویں۔ یہ مسئلہ ر یاد ہماری سمجھ میں نہیں آتا۔ کیا خدا کا ایمان سانپ کے خوف سے بھی گیا گذرا ہے؟ مومن ہونے کا دعویٰ ہے اور پھر بائیں چوری ، جھوٹ ، زنا، بد نظری ، شراب خوری فسق فجور میں فرق نہیں نفاق اور ریا کاری کی تصدیق نہیں۔ زبانی ایمان کا دعوی ہے ورنہ عملی طور پر ایمان اور دین کچھ بھی چیز نہیں۔ ہم صاف مشاہدہ کرتے ہیں کہ انسان کو جس چیز کے مفید ہونے کا ایمان ہے اسے ہرگز ہرگز ضائع نہیں کرتا کوئی امیر اور کوئی غریب ہم نے نہیں دیکھا جو اپنے گھر سے اپنی جائیداد یا دولت کو جو اس کے پاس ہے باہر نکال پھینکتا ہو بلکہ ہم نے تو کسی کو ایک پیسہ بھی پھینکتے نہیں دیکھا ۔ پیسہ تو کجا ایک سوئی بھی اگر کمائی ہوئی ٹوٹ جاوے تو اسے رنج ہوتا ہے کہ میرے کارآمد چیز تھی ۔ مگر ایمان باللہ کی قدر ان لوگوں کی نظر میں اس سوئی کے برابر بھی نہیں اور نہ اس کا فائدہ ایک سوئی کے برابر لوگ جانتے ہیں ۔ پس جب ایمان ایسا ہوتا ہے کہ ایک سوئی کے برابر بھی اس کی قدر ان میں نہیں ہوتی ۔ تو اسی کے مطابق ان کو انسان سے نفع بھی نہیں پہنچتا اور نہ ان کو وہ کمال حاصل ہوتا ہے کہ خدا ان پر