ملفوظات (جلد 5) — Page 44
ملفوظات حضرت مسیح موعود جلد پنجم کے مسائل ایسے ہیں کہ کسی خاص دماغ یا عقل کے واسطے خاص نہیں بلکہ وہ تمام دنیا کے واسطے یکساں ہیں اور ہر ایک کی سمجھ میں آسکتے ہیں۔ مگر وہ زندہ ایمان کہ جس سے انسان خدا کو گو یا د یکھ لیتا ہے اور وہ نور جس سے انسان کی آنکھ کھل کر اس کو ایقان تام حاصل ہو جاوے وہ صرف الہام ہی پر منحصر ہے۔ الہام سے انسان کو ایک نور ملتا ہے جس سے وہ ہر تاریکی سے مبرا ہو جاتا ہے اور ایک قسم کا اطمینان اور تسلی اسے ملتی ہے اس کا نفس اس دن سے خدا میں آرام پانے لگتا ہے اور ہر گناہ فسق فجور سے اس کا دل ٹھنڈا ہوتا جاتا ہے اس کا دل امید اور ہیم سے بھر جاتا ہے اور خدا کی حقیقی معرفت کی وجہ سے وہ ہر وقت ترساں لرزاں رہتا ہے اور زندگی کو نا پائیدار جانتا اور اسفل لذات کی ہوس اور خواہش کو ترک کر کے خدا کی رضا کے حصول میں لگ جاتا ہے اور درحقیقت وہ اسی وقت گناہ کی آلودگی سے علیحدہ ہوتا ہے۔ جب تک تازہ نور انسان کو آسمان پر سے نہ ملے اور خدا کا مشاہدہ نہ ہو جاوے تب تک پورا ایمان نہیں ہوتا اور جب تک ایمان کمال درجہ تک نہ پہنچا ہو تب تک گناہ کی قید سے رہائی ناممکن ہے۔ بجز الہام کے ایمان کی تصویر لوگوں کے پاس ہوتی ہے۔ اس کی ماہیت سے لوگ بے بہرہ اور خالی محض ہوتے ہیں تعجب ہے کہ یورپ تو آج کل بہت سی ٹھوکریں کھا کر ان امور کو تسلیم کرتا جاتا ہے مگر ہمارے مولوی انکار وکفر میں غرق ہیں اگر الہام ہونے کا نام بھی لیا جاوے تو کفر کا فتویٰ تیار ہے۔ وحی کے نزول کا دعویٰ کرنے والا تو اکفر اور ضال و دجال ہے۔ افسوس آتا ہے کہ لوگ خدا تعالیٰ کے کلام سے کیسے دور جا پڑے ہیں اور ان سے فہم قرآن چھین لیا گیا ہے۔ بھلا اگر خدا تعالیٰ نے اس امت کو اس شرف سے محروم ہی رکھنا تھا تو یہ دعا ہی کیوں سکھائی اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمُ (الفاتحة : ۷،۶) اس دعا سے تو صاف نکلتا ہے کہ یا الہی ہمیں پہلے منعم علیہم لوگوں کی راہ پر چلا اور جو ان کو الہامات ملے ہمیں بھی وہ انعامات عطا فرما۔ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ کون تھے؟ خدا نے خود ہی فرمادیا ہے کہ نبی ، صدیق ، شہید، صالح لوگ تھے اور ان کا برابر انعام یہی الہام اور وحی کا نزول تھا۔ بھلا اگر خدا نے اس دعا کا سچا نتیجہ جو ہے اس سے محروم ہی رکھنا تھا تو پھر کیوں ایسی دعا سکھائی؟ ہمیں ما