ملفوظات (جلد 5) — Page 382
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۸۲ جلد پنجم موجب ہوگی ۔ اس کے سوا اب یہ خون اُٹھنے لگا ہے اور اس کا اثر پیدا ہونا شروع ہو گیا ہے جو ایک جماعت کو پیدا کر دے گا۔ یہ خون کبھی خالی نہیں جا۔ خالی نہیں جائے گا ۔ اللہ تعالیٰ اس کے مصالح اور حکمتوں کو خوب جانتا ہے لیکن جہاں تک پیشگوئی کے کے الفاظ پر پر غور غور کرتا کرتا ہوں ہوں اس میں عَسَى أَنْ تَكْرَهُوا شَيْئًا وَ هُوَ خَيْرٌ لَكُمْ - ایک ہی بڑی تسلی اور اطمینان کی بات ہے کہ جس سے صاف پایا جاتا ہے کہ اس خون کے بہت بڑے بڑے نتائج پیدا ہونے والے ہیں۔ میں جانتا ہوں اور اس پر افسوس بھی کرتا ہوں کہ جس قسم کا نمونہ صدق اور وفا کا عبداللطیف نے دکھلایا ہے۔ اس قسم کے ایمان کے لیے میرا کانشنس فتویٰ نہیں دیتا کہ ایسے لوگ میری جماعت میں بہت ہیں۔ اس لیے میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ سب کو اس قسم کا اخلاص اور صدق عطا کرے کہ وہ دین کو دنیا پر مقدم کریں اور خدا تعالیٰ کی راہ میں اپنی جان کو عزیز نہ سمجھیں۔ میں ابھی جماعت میں بزدلی کو دیکھتا ہوں اور جب تک یہ بز دلی دور نہ ہو اور بزدلی کو دور کرو عبد اللطیف کا سا ایمان پیدا نہ ہو۔ یقیناً یاد رکھو کہ وہ اس سلسلہ میں داخل نہیں ہے بلکہ وہ يُخْدِعُونَ اللهَ (البقرۃ: ۱۰) میں داخل ہے۔ مومنوں میں وہ اس وقت داخل ہوں گے جب وہ اپنی نسبت یہ یقین کر لیں گے کہ ہم مردے ہیں ۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین جب ۔ دشمنوں کے مقابلہ پر جاتے تھے وہ ایسے معلوم ہوتے تھے کہ گویا گھوڑوں پر مُردے سوار ہیں اور وہ سمجھتے تھے کہ اب ہم کو موت ہی اس میدان سے الگ کرے گی ۔ اللہ تعالیٰ لاف و گزاف کو پسند نہیں کرتا وہ دل کی اندرونی حالت کو دیکھتا ہے کہ اس میں ایمان کا کیا رنگ ہے۔ جب ایمان قوی ہو تو استقامت اور استقلال پیدا ہوتا ہے اور پھر انسان اپنی جان و مال کو ہرگز اس ایمان کے مقابلہ میں عزیز نہیں رکھ سکتا اور استقامت ایسی چیز ہے کہ اس کے بغیر کوئی عمل قبول نہیں ہوتا لیکن جب استقامت ہوتی ہے تو پھر انعامات الہیہ کا دروازہ کھلتا ہے دعا ئیں بھی قبول ہوتی ہیں مکالمات الہیہ کا شرف بھی دیا جاتا ہے یہاں تک کہ استقامت والے سے خوارق کا صدور الحکم جلد ۸ نمبر ۳ مورخه ۲۴ جنوری ۱۹۰۴ء صفحه ۱، ۲