ملفوظات (جلد 5) — Page 381
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۸۱ جلد پنجم پیشگوئی شائع کی گئی تھی کیوں پوری ہو جاتی ہے؟ اس قدر عرصه در از تک تو انسان کو اپنی زندگی کی بھی امید نہیں ہو سکتی اور پھر اس کے ماننے والوں میں اس قدر استقامت اور قوت ہے کہ بیوی بچوں تک کی پروا نہیں کرتا ، مال اور جان کا خیال تک بھی نہیں کرتا۔ ایمان جیسی دولت پر سب کچھ قربان کرنے کو طیار ہو جاتا ہے۔ ایک اہل بصیرت اس سے نتیجہ نکالنے میں غلطی نہیں کرے گا کہ یہ محض خدا تعالیٰ کا فضل اور اس کے منشاہی کے ماتحت ہے۔ ایک سلسلہ جو خود اس نے قائم کیا ہے اور آپ جس نے ایک نشان دیا ہے اسی نے وہ قوت اور استقامت اس شہید کو عطا کی تاکہ اس کی شہادت اس سلسلہ کی سچائی پر زبردست دلیل اور گواہ ہو چنانچہ ایسا ہی ہوا ہے اب یہ نشان ہزاروں لاکھوں انسانوں کے لیے ہدایت اور ترقی ایمان کا موجب ہوگا اور خدا چاہے تو اس کے آثار ابھی سے نظر آنے لگے ہیں ۔ الْإِسْتِقَامَةُ فَوْقَ الْكَرَامَةِ مشہور بات ہے عبد اللطیف کے اس استقلال اور اس استقامت سے بہت بڑا فائدہ ان لوگوں کا ہوگا جو اس واقعہ پر غور کریں گے چونکہ یہ موت بہت سی زندگیوں کا موجب ہونے والی ہے اس لیے یہ ایسی موت ہے کہ ہزاروں زندگیاں اس پر قربان ہیں۔ پھر اس پیشگوئی میں كُل مَنْ عَلَيْهَا فَان جو فرمایا ہے یہ دشمنوں کے لئے ہے کہ تمہیں بھی کبھی ن عَلَيْهَا فَان جو فرمایا ہے یہ دشمنوں کے لئے مرنا ہی ہے موت تو کسی کو نہیں چھوڑے گی ۔ پھر عبداللطیف کی موت پر جو موت نہیں بلکہ زندگی ہے تم تو کو گیا۔ پر جو کیوں خوش ہوتے ہو۔ آخر تمہیں بھی مرنا ہے۔ عبداللطیف کی موت تو بہتوں کی زندگی کا باعث ہوگی مگر تمہاری جان اکارت جائے گی اور کسی ٹھکانے نہ لگے گی ۔ مولوی عبداللطیف کی شہادت اور استقامت کا سب سے بڑا فائدہ تو یہ ہوا کہ ۲۳ یا ۲۴ برس سے ایک پیشگوئی براہین میں موجود تھی جو پوری ہو گئی اور یہ ہماری جماعت کے ایمان کو ترقی دینے کا ل البدر میں ہے۔ ہم ا ہے۔ ہم اگر مفتری تھے تو اس قدر استقامت ان میں کیوں آگئی؟ کیا کبھی سنا ہے کہ ایک مفتری کا مرید ہو کر پھر کسی نے اس طرح سے جان دی ہو حالانکہ بار باران کو جان بچانے کا موقع بھی دیا گیا ۔ الاسْتِقَامَةُ فَوْقَ الْكَرَامَةِ یہ بھی ہمارے سچے ہونے کی ایک دلیل ہے۔“ البدر جلد ۳ نمبر ۳ مورخه ۱۶ جنوری ۱۹۰۴ ء صفحه ۵)