ملفوظات (جلد 5) — Page 377
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۷۷ جلد پنجم یہ افسوس کی بات ہے کہ انسان خواہش تو اعلیٰ مدارج اور مراتب کی کرے اور ان تکالیف سے بچنا چاہے جو ان کے حصول کے لیے ضروری ہیں۔ یقیناً یا درکھو کہ ابتلا اور امتحان ایمان کی شرط ہے اس کے بغیر ایمان ، ایمانِ کامل ہوتا ہی نہیں اور کوئی عظیم الشان نعمت بغیر ابتلا ملتی ہی نہیں ہے۔ دنیا میں بھی عام قاعدہ یہی ہے کہ دنیوی آسائشوں اور نعمتوں کے حاصل کرنے کے لیے قسم قسم کی مشکلات اور رنج و تعب اُٹھانے پڑتے ہیں۔ طرح طرح کے امتحانوں میں سے ہو کر گذرنا پڑتا ہے تب کہیں جا کر کامیابی کی شکل نظر آتی ہے اور پھر بھی وہ محض خدا تعالیٰ کے فضل پر موقوف ہے پھر خدا تعالیٰ جیسی نعمت عظمیٰ جس کی کوئی نظیر ہی نہیں یہ بڑوں امتحان کیسے میسر آسکے۔ پس جو چاہتا ہے کہ خدا تعالیٰ کو پاوے اسے چاہیے کہ وہ ہر ایک ابتلا کے لیے طیار ہو جاوے جب اللہ تعالیٰ کوئی سلسلہ قائم کرتا ہے جیسا کہ اس وقت اس نے اس سلسلہ کو قائم کیا ہے تو جو لوگ اس میں اولاً داخل ہوتے ہیں ان کو قسم قسم کی تکالیف اٹھانی پڑتی ہیں ہر طرف سے گالیاں اور دھمکیاں سننی پڑتی ہیں ۔ کوئی کچھ کہتا ہے کوئی کچھ۔ یہاں تک کہ ان کو کہا جاتا ہے کہ ہم تم کو یہاں سے نکال دیں گے یا اگر ملازم ہے تو اس کے موقوف کرانے کے منصوبے ہوتے ہیں جس طرح ممکن ہوتا ہے تکلیفیں پہنچائی جاتی ہیں اور اگر ممکن ہو تو جان لینے سے دریغ نہیں کیا جا تا ایسے وقت میں جولوگ ہو تو ان دھمکیوں کی پروا کرتے ہیں اور امتحان کے ڈر سے کمزوری ظاہر کرتے ہیں یا د رکھو خدا تعالیٰ کے نزدیک ان کے ایمان کی ایک پیسہ بھی قیمت نہیں ہے کیونکہ وہ ابتلا کے وقت خدا سے نہیں انسان سے ڈرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی عظمت و جبروت کی پروا نہیں کرتا وہ بالکل ایمان نہیں لایا کیونکہ با کیونکہ دھمکی کو اس کے مقابلہ میں وقعت دیتا اور ایمان چھوڑنے کو طیار ہو جاتا ہے۔ لے نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ صالحین میں داخل ہونے سے محروم ہو جاتا ہے یہ خلاصہ اور مفہوم ہے اس آیت کا وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ يَقُولُ آمَنَّا لے البدر میں ہے ۔ ابتلا کے وقت جو شخص انسان سے ڈرتا ہے اس کی کچھ بھی قیمت نہیں ہوتی وہ دھمکی دینے والے کو گویا اپنا رب خیال کرتا ہے اور اس کے خوف سے ایمان چھوڑنے کو طیار ہوتا ہے تو اب بتلاؤ کہ کیا ایمان ہوا ؟“ البدر جلد ۳ نمبر ۳ مورخه ۱۶ جنوری ۱۹۰۴ء صفحه (۵)