ملفوظات (جلد 5) — Page 376
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۷۶ جلد پنجم اور وہ تکلف اور تکلیف جو پہلے ہوتی تھی اب ذوق و شوق اور لذت سے بدل جاتی ہے یہ مقام ہوتا ہے صالحین کا جن کے لیے فرمایا لَنْدْخِلَنَّهُمْ فِي الصَّلِحِينَ اس مقام پر پہنچ کر کوئی فتنہ اور فساد مومن کے اندر نہیں رہتا۔ نفس کی شرارتوں سے محفوظ ہو جاتا ہے اور اس کے جذبات پر فتح پا کر مطمئن ہو کر دار الامان میں داخل ہو جاتا ہے۔ اور اس سے آگے فرمایا ہے وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ ابتلا اور امتحان ایمان کی شرط ہے يَقُولُ آمَنَّا بِاللَّهِ فَإِذَا أُوْدِيَ فِي اللَّهِ جَعَلَ فِتْنَةَ النَّاسِ كَعَذَابِ اللهِ (العنكبوت: ۱۱) اور بہت سے لوگ ایسے ہوتے ہیں جو زبانی تو ایمان کے دعوے کرتے ہیں اور مومن ہونے کی لاف و گزاف مارتے رہتے ہیں مگر جب معرض امتحان و ابتلا میں آتے ہیں تو ان کی حقیقت کھل جاتی ہے۔ اس فتنہ و ابتلا کے وقت ان کا ایمان اللہ تعالیٰ پر ویسا نہیں رہتا بلکہ شکایت کرنے لگتے ہیں اسے عذاب الہی قرار دیتے ہیں ۔ حقیقت میں وہ لوگ بڑے ہی محروم ہیں ۔ جن کو صالحین کا مقام حاصل نہیں ہوتا۔ کیونکہ یہی تو وہ مقام ہے جہاں انسان ایمانی مدارج کے ثمرات کو مشاہدہ کرتا ہے اور اپنی ذات پر ان کا اثر پاتا ہے اور نئی زندگی اسے ملتی ہے لیکن یہ زندگی پہلے ایک موت کو چاہتی ہے اور یہ انعام و برکات امتحان وابتلا کے ساتھ وابستہ ہوتے ہیں۔ یہ یاد رکھو کہ ہمیشہ عظیم الشان نعمت ابتلا سے آتی ہے اور ابتلا مومن کے لیے شرط ہے جیسے اَحَسِبَ النَّاسُ أَنْ يُتْرَكُوا أَنْ يَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ (العنكبوت: ۳) یعنی کیا لوگ گمان کر بیٹھے ہیں کہ وہ اتنے ہی کہہ دینے پر چھوڑ دیئے جاویں کہ ہم ایمان لائے اور وہ آزمائے نہ جاویں۔ ایمان کے امتحان کے لیے مومن کو ایک خطر ناک آگ میں پڑنا پڑتا ہے مگر اس کا ایمان اس آگ سے اس کو صحیح سلامت نکال لاتا ہے اور وہ آگ اس پر گلزار ہو جاتی ہے۔ مومن ہو کر ابتلا سے کبھی بے فکر نہیں ہونا چاہیے اور ابتلا پر زیادہ ثبات قدم دکھانے کی ضرورت ہوتی ہے اور حقیقت میں جو سچا مومن ہے ابتلا میں اس کے ایمان کی حلاوت اور لذت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی قدرتوں اور اس کے عجائبات پر اس کا ایمان بڑھتا ہے اور وہ پہلے سے بہت زیادہ خدا کی طرف توجہ کرتا اور دعاؤں سے فتحیاب اجابت چاہتا ہے۔