ملفوظات (جلد 5) — Page 369
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۶۹ جلد پنجم جب ایک انسان نفس مطمئنہ کی حالت میں ہوتا ہے تو نفس مطمئنہ اسے اندھا کر دیتا ہے اور اس کی آنکھوں میں گناہ کی قوت نہیں رہتی ۔ وہ دیکھتا ہے پھر نہیں دیکھتا۔ کیونکہ آنکھوں کے گناہ کی نظر سلب ہو جاتی ہے۔ وہ کان رکھتا ہے مگر بہرہ ہوتا ہے اور وہ باتیں جو گناہ کی ہیں نہیں سن سکتا۔ اسی طرح پر اس کی تمام نفسانی اور شہوانی قوتیں اور اندرونی اعضا کاٹ دیئے جاتے ہیں ۔ اس کی ان ساری طاقتوں پر جن سے گناہ صادر ہو سکتا تھا ایک موت واقع ہو جاتی ہے اور وہ بالکل ایک میت کی طرح ہوتا ہے اور خدا تعالیٰ ہی کی مرضی کے تابع ہوتا ہے۔ وہ اس کے سوا ایک قدم نہیں اُٹھا سکتا۔ یہ وہ حالت ہوتی ہے جب خدا تعالیٰ پر سچا ایمان ہو اور جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ کامل اطمینان اسے دیا جاتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جو انسان کا اصل مقصود ہونا چاہیے اور ہماری جماعت کو اسی کی ضرورت ہے اور اطمینان کامل کے حاصل کرنے کے واسطے ایمانِ کامل کی ضرورت ہے۔ پس ہماری جماعت کا پہلا فرض یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ پر سچا ایمان حاصل کریں۔ یا درکھو۔ اصلاح نفس کے لیے نری تجویزوں اصلاح نفس کا سچ ذریعہ صحبت صادقین اور تدبیروں سے کھ نہیں ہوتا ہے جو شخص نری تدبیروں پر رہتا ہے وہ نامراد اور ناکام رہتا ہے کیونکہ وہ اپنی تدبیروں اور تجویزوں ہی کو خدا سمجھتا ہے۔ اس واسطے وہ فضل اور فیض جو گناہ کی طاقتوں پر موت وارد کرتا ہے اور بدیوں سے بچنے اور ان کا مقابلہ کرنے کی قوت بخشتا ہے وہ انہیں نہیں ملتا کیونکہ وہ خدا تعالیٰ سے آتا ہے جو تد بیروں کا غلام نہیں تھا۔ انسانی تدبیروں اور تجویزوں کی ناکامی کی مثال خود خدا تعالیٰ نے دکھائی ہے یہودیوں کوتوریت کے لیے کہا کہ اس میں تحریف و تبدیل نہ کرنا اور بڑی بڑی تاکید میں اس کی حفاظت کی ان کو کی گئیں لیکن کم بخت یہودیوں نے تحریف کر دی ۔ اس کے بالمقابل مسلمانوں کو کہا إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحْفِظُونَ (الحجر : ۱۰) یعنی ہم نے اس قرآن مجید کو تارا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں پھر دیکھ لو کہ اس نے کیسی حفاظت فرمائی ایک لفظ اور نقطہ تک پس و پیش نہ ہوا اور کوئی ایسا نہ کر سکا کہ اس میں تحریف تبدیل کرتا صاف ظاہر ہے کہ جو کام خدا کے ہاتھ سے ہوتا