ملفوظات (جلد 5)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 368 of 467

ملفوظات (جلد 5) — Page 368

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۶۸ جلد پنجم شیطان اور نفس سے جنگ کرتے رہتے ہیں کبھی ایسا ہوتا ہے کہ نفس غالب آ کر لغزش ہو جاتی ہے اور کبھی خود نفس پر غالب آجاتے اور اس کو دبا لیتے ہیں۔ یہ لوگ نفس اتارہ والوں سے ترقی کر جاتے ہیں۔ نفس امارہ والے انسان اور دوسرے بہائم میں کوئی فرق نہیں ہوتا جیسے کتا یا بلی جب کوئی برتن ننگا دیکھتے ہیں تو فوراً جا پڑتے ہیں اور نہیں دیکھتے کہ وہ چیز ان کا حق ہے یا نہیں۔ اسی طرح پر نفس امارہ کے غلام انسان کو جب کسی بدی کا موقع ملتا ہے تو فوراً اسے کر بیٹھتا ہے اور طیار رہتا ہے اگر راستہ میں دو چار روپے پڑے ہوں تو فی الفوران کے اُٹھانے کو طیار ہو جاوے گا اور نہیں سوچے گا کہ اس کو ان کے لینے کا حق ہے یا نہیں مگر تو امہ والے کی یہ حالت نہیں ۔ وہ حالت جنگ میں ہے جس میں کبھی نفس غالب کبھی وہ ، ابھی کامل فتح نہیں ہوئی۔ مگر تیسری حالت جو نفس مطمئنہ کی حالت ہے یہ وہ حالت ہے جب ساری لڑائیوں کا خاتمہ ہو جاتا ہے اور کامل فتح ہو جاتی ہے اسی لیے اس کا نام نفس مطمئنہ رکھا ہے یعنی اطمینان یافتہ اس وقت وہ اللہ تعالیٰ کے وجود پر سچا ایمان لاتا ہے اور یقین کرتا ہے کہ واقعی خدا ہے۔ نفس مطمئنہ کی انتہائی حد خدا پر ایمان ہوتا ہے کیونکہ کامل اطمینان اور تسلی اسی وقت ملتی ہے جب اللہ تعالیٰ پر کامل ایمان ہو۔ یقیناً سمجھو کہ ہر ایک پاکبازی اور نیکی کی اصلی جڑ خدا پر ایمان لانا ہے جس قدر انسان کا ایمان باللہ کمزور ہوتا ہے اسی قدر اعمالِ صالحہ میں کمزوری اور سستی پائی جاتی ہے لیکن جب ایمان قوی ہو اور اللہ تعالیٰ کو اس کی تمام صفات کا ملہ کے ساتھ یقین کر لیا جائے اسی قدر عجیب رنگ کی تبدیلی انسان کے اعمال میں پیدا ہو جاتی ہے خدا پر ایمان رکھنے والا گناہ پر قادر نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ یہ ایمان اس کی نفسانی قوتوں اور گناہ کے اعضا کو کاٹ دیتا ہے۔ دیکھو اگر کسی کی آنکھیں نکال دی جاویں تو وہ آنکھوں سے بد نظری کیونکر کر سکتا ہے اور آنکھوں کا گناہ کیسے کرے گا اور اگر ایسا ہی ہاتھ کاٹ دیئے جاویں یا شہوانی قومی کاٹ دیئے جاویں۔ پھر وہ گناہ جو ان اعضا سے متعلق ہیں کیسے کر سکتا ہے؟ ٹھیک اسی طرح پر لے البدر میں ہے۔ اس کا نام نفس مطمئنہ اس لیے ہے کہ یہ اطمینان یافتہ ہو جاتا ہے۔ انسان کے ہر ایک قومی پر اس کا قابو ہو جاتا ہے اور طبعی طور پر اس سے نیکی کے کام سرزد ہوتے ہیں۔“ (البدر جلد ۳ نمبر ۳ مورخه ۱۶ جنوری ۱۹۰۴ صفحه ۳)