ملفوظات (جلد 5) — Page 348
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۴۸ جلد پنجم وقت خود ایک نشان ہے اور وہ بتلا رہا ہے کہ اس وقت ایک مصلح کی ضرورت ہے۔ دلیل صداقت اب وقت آزمائش اور امتحان کا ہرگز نہیں ہے۔ اگر کوئی نہیں مانتا تو بتلائے کہ ہمارا کیا بگاڑتا ہے۔ مکہ میں اگر صد ہا آدمی انکار کر کے تباہ ہوئے تو بتلاؤ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا بگاڑ لیا۔ ایک مرتد ہوتا تو خدا سو اور لے آتا کیا یہ غور کی بات نہیں کہ اگر ہمارا کارخانہ خدائی نہ ہوتا تو یہ آج تک کب کا تباہ ہو جاتا۔ ایک وہ وقت تھا کہ میں اکیلا پھرتا تھا اور اب وہ وقت ہے کہ دو لاکھ سے زیادہ آدمی میرے ساتھ ہیں ۔ آج سے ۲۲ ، ۲۳ برس پیشتر اس نے بتلایا جو کہ براہین میں درج ہے کہ میں تجھے کامیاب کروں گا اور لاکھوں آدمیوں کو تیرے ساتھ کروں گا۔ اس کتاب کو لے کر دیکھو اور پڑھو اور پھر سوچو کہ کیا یہ انسان کا فعل ہے کہ اس قدر دراز زمانہ پیشتر ایک خبر کو درج کرے اور پھر اس قدر مخالفت ہو اور وہ بات پوری ہو کر رہے پس جو شخص خدا کے اس فعل پر ایمان نہیں لاتا وہ بدبخت مرے گا۔ نشان دیکھنے والے دو قسم کے ہوتے ہیں ایک تو نشان نمائی کا مطالبہ کرنے والے لیکھر امی کہ شوخی اور شرارت کرتے ہیں اور خدا کی باتوں پر ہنسی اور تمسخران کا کام ہوتا ہے ایسے جہنم واصل ہوتے ہیں جیسے کہ لیکھر ام ہوا ۔ اور ایک وہ کہ سنت نبوی کے موافق نشان چاہتے ہیں کہ دنیا کی حیثیت بھی بنی رہے اور نشان بھی ظاہر ہو یہ نہیں کہ قیامت کا نمونہ ان کے لیے ظاہر ہو اور خدا تعالیٰ تمام کائنات کو زیروزبر کر دے (اس صورت میں جب وہ خود مر ہی جاوے گا تو نشان کون دیکھے گا ) ایمان کی حد یہی ہے کہ عقل بھی خرچ ہو اور انسان فہم و فراست سے کام لے کر قرائن مرجحہ کو دیکھے۔ نہ یہ چاہے کہ سب کچھ انکشاف ہو جاوے۔ تو پھر اسے ثواب کس بات کا ؟ وہ تو ایمان ہی نہیں ہے جس میں پردہ نہیں ہے اس لیے خدا فرماتا ہے کہ جو لوگ نشانوں کو دیکھ کر ایمان لاتے ہیں ان کا ایمان نفع نہ دے گا۔ انسان من وجہ دیکھے کہ زمانہ کی ضرورت کیا تقاضا کرتی ہے۔ وہ ایک مصلح کو چاہتی ہے کہ نہیں ۔ پھر ان وعدوں پر نظر جو نصرت اور تائید کے خدا نے ہم سے قبل از وقت کئے اور وہ اور وہ سب پورے ہوئے۔ غرضیکہ ان ڈالے جو نہ