ملفوظات (جلد 5) — Page 347
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۴۷ جلد پنجم لانے میں ایک پہلو غیب کا پڑا ہوا ہے۔ ایمان لانے کے لئے ضروری ہے کہ کچھ بھی ہو اور طالب حق چند قرائن صدق کے لحاظ سے ان باتوں کو مان لے۔ اور مِمَّا رَزَقْتُهُمْ يُنْفِقُونَ (البقرۃ: ۴) کے یہ معنے ہیں کہ جو کچھ ہم نے ان کو عقل ، فکر ، فہم ، فراست اور رزق اور مال وغیرہ عطا کیا ہے اس میں سے خدا کی راہ میں اس کے لئے صرف کرتے ہیں یعنی فعل کے ساتھ بھی کوشش کرتے ہیں ۔ پس جو شخص دعا اور کوشش سے مانگتا ہے وہ متقی ہے جیسے اللہ تعالیٰ نے سورہ فاتحہ میں بھی اس کی طرف اشارہ کیا ہے إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ (الفاتحة: ۵) یا د رکھو کہ جو شخص پوری فہم اور عقل اور زور سے تلاش نہیں کرتا وہ خدا کے نزدیک ڈھونڈنے والا نہیں قرار پاتا اور اس طرح سے امتحان کرنے والا ہمیشہ محروم رہتا ہے، لیکن اگر وہ کوششوں کے ساتھ دعا بھی کرتا ہے اور پھر اسے کوئی لغزش ہوتی ہے تو خدا اسے بچاتا ہے اور جو آسانی تن کے ساتھ دروازہ پر آتا ہے اور امتحان لیتا ہے تو خدا کو اس کی پروا نہیں ہے۔ ابو جہل وغیرہ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت تو نصیب ہوئی اور وہ کئی دفعہ آپ کے پاس آیا بھی لیکن چونکہ آزمائش کے لئے آتا رہا اس لئے گر گیا اور اسے ایمان نصیب نہ ہوا۔ اگر کوئی شخص بیعت کر کے یہ خیال کرتا ہے کہ ہم پر احسان کرتا بیعت ہم پر احسان نہیں ہے تو یاد رکھے کہ ہم پر کوئی احسان نہیں بلکہ یہ خدا کا اس پر احسان ہے کہ اس نے یہ موقع اس کے نصیب کیا ۔ سب لوگ ایک ہلاکت کے کنارہ پر پہنچے ہوئے تھے ۔ دین کا نام ونشان نہ تھا اور تباہ ہو رہے تھے ۔ خدا نے ان کی دستگیری کی (کہ یہ سلسلہ قائم کیا ) اب جو اس مائدہ سے محروم رہتا ہے وہ بے نصیب ہے لیکن جو اس کی طرف آوے۔اسے چاہیے کہ اپنی پوری کوشش کے بعد دعا سے کام لیوے۔ جو شخص اس خیال سے آتا ہے کہ آزمائش کرے کہ فلاں سچا ہے یا جھوٹا وہ ہمیشہ محروم رہتا ہے۔ آدم سے لے کر اس وقت تک کوئی ایسی نظیر نہ پیش کر سکو گے کہ فلاں شخص فلاں نبی کے پاس آزمائش کے لئے آیا اور پھر اسے ایمان نصیب ہوا ہو۔ پس چاہیے کہ خدا کے آگے رووے اور راتوں کو اُٹھ اُٹھ کر گریہ وزاری کرے کہ خدا اسے حق دکھاوے۔